افغانستان غذائی قلت: یو این ادارہ زندگی سے رشتہ جوڑے رکھنے میں مصروف
یو این
جمعرات 14 مئی 2026
23:00
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 مئی 2026ء) رقیبہ احمدی بھوک کو روزمرہ کی حقیقت کے طور پر جانتی ہیں۔ چھ بچوں کی ماں ہونے کے ناطے انہیں کئی مرتبہ ایسے انتہائی مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں کہ گھر میں پہلے کس کو کھانا دیا جائے، کس کو انتظار کرنا ہو گا اور موجود خوراک کتنے دن استعمال ہو سکتی ہے۔
وہ افغانستان کے شمال مشرقی شہر فیض آباد میں رہتی ہیں جہاں ایک کے بعد دوسرا بحران جنم لیتا ہے اور لوگ روزانہ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
یہاں اور ملک کے دیگر حصوں میں غذائی قلت کے خاموش بحران نے لاکھوں بچوں اور ماؤں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تاہم، رقیبہ کو امید ہے کہ ان کا خاندان اس تباہی کا شکار نہیں ہو گا۔وہ کہتی ہیں 'ہم جو کھانا خرید سکتے ہیں، وہ اپنے بچوں کو دے دیتے ہیں، لیکن وہ بھی کافی نہیں ہوتا'
ان کی سب سے چھوٹی بیٹی غذائی قلت کے باعث پیدا ہونے والے جسمانی عوارض سے صحت یاب ہو رہی ہے جبکہ ان کے شوہر بے روزگار ہیں۔
(جاری ہے)
بحران در بحران
رقیبہ اور بے شمار دیگر افغان خاندانوں کے لیے زندگی غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے جبکہ ملک ایک ساتھ کئی بحرانوں سے نبرد آزما ہے جن میں تباہ ہوتی معیشت، بے روزگاری اور شدید موسمی تبدیلیاں شامل ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے بحران کے اثرات اور پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرحدیں بند ہونے سے رسد کا نظام متاثر ہوا ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں اور غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس خصوصی غذائی اشیا تیزی سے ختم ہو رہی ہیں جو خواتین اور بچوں کو غذائی قلت سے چھٹکارا پانے میں مدد دیتی تھیں۔افغانستان
میں ادارے کے ڈائریکٹر جان ایلیف کا کہنا ہے کہ غذائی معاونت جیسے پروگرام اختیاری نہیں بلکہ ضروری ہیں۔ یہ افغانستان بھر میں لاکھوں خواتین اور بچوں کے لیے زندگی کی ضمانت ہیں۔ بدقسمتی سے یہ سہارا پہلے ہی کمزور پڑ چکا ہے جس سے ہزاروں ماؤں اور بچوں کی جان خطرے میں ہے۔
شدید بھوک اور غذائی قلت
تازہ بحرانوں سے پہلے ہی افغانستان شدید بھوک اور غذائی قلت کا سامنا کر رہا تھا۔ اس وقت ایک کروڑ 38 لاکھ سے زیادہ لوگ شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ 50 لاکھ بچے اور حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین غذائی قلت کا سامنا کر رہی ہیں۔
گزشتہ سال 'ڈبلیو ایف پی' نے ایک کروڑ 24 لاکھ سے زیادہ افغانوں کو خوراک اور غذائی معاونت فراہم کی۔
ان میں تقریباً تین چوتھائی یعنی 91 لاکھ خواتین اور بچے تھے۔ تاہم مالی وسائل کی کمی کے باعث امدادی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ آج 'ڈبلیو ایف پی' کی امداد افغانستان میں غذائی قلت کا شکار ماؤں اور بچوں کے صرف ایک چھوٹے حصے تک پہنچ رہی ہے اور اس میں مزید کمی آنے کا خدشہ موجود ہے۔معاشی مواقع کا خاتمہ
افغانستان
میں معاشی مواقع بھی تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں اور خواتین کی زندگیوں پر پابندیاں مزید سخت ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں رقیبہ کے پاس بچوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر میں رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں جبکہ ان کے شوہر روزانہ مزدوری کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ان کے گھر کے قریب سبزیوں کا چھوٹا سا کھیت اور چند مرغیاں اور ایک بکری کسی حد تک ان کے گھرانے کو سہارا دیتے ہیں لیکن یہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔
ان حالات میں وہ اپنے تمام بچوں کو دو وقت کھانا نہیں دے سکتیں۔
انہیں اپنی چھوٹی بیٹی ندا کا علاج کرانے کے لیے گھر سے پانچ کلومیٹر فاصلے پر فیض آباد میں واقع کلینک کی جانب پیدل جانا پڑتا ہے۔ یہ کلینک 'ڈبلیو ایف پی' کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔
رقیبہ کی امید
پندرہ ماہ کی ندا ان 37 لاکھ افغان بچوں میں شامل ہیں جنہیں شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ طبی معائنے کے دوران نرس ان کا وزن اور قد دیکھتی ہیں۔ گزشتہ معائنے کے مقابلے میں اب ان کی صحت بہتر ہو گئی ہے لیکن کم غذائیت کی علامات اب بھی موجود ہیں۔ اس معاملے میں مکمل صحت یابی فوری نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک طویل سفر ہے جس میں ابھی کئی مراحل باقی ہیں۔
معائنے کے بعد رقیبہ کو خصوصی غذائیت سے بھرپور مونگ پھلی کا تین کلو گرام پیسٹ دیا جاتا ہے۔ یہ غذائی سپلیمنٹ ندا کا وزن اور طاقت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ علاوہ ازیں، خاندان کو گندم کا آٹا، دالیں، تیل اور نمک بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
رقیبہ چاہتی ہیں کہ ان کے بچے بھوک اور بیماری کا شکار ہوئے بغیر پروان چڑھیں۔ مگر اس خاندان کے مستقبل پر غیر یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے ہمسایوں کو امداد سے محروم ہوتے دیکھا ہے کیونکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ کہیں اگلی باری ان کے خاندان کی نہ ہو۔تاہم فی الوقت وہ پرامید ہیں کہ 'ڈبلیو ایف پی' کی یہ امداد جاری رہے گی۔ یہ مدد خواتین کے لیے بہت اہم ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔
یہ فیچر پہلے انگلش میں یہاں شائع ہوا تھا۔
مزید اہم خبریں
-
پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں
-
حدیقہ کیانی کو ستارۂ امتیاز سے نواز دیا گیا
-
ٹرمپ اب نہیں چاہتا کہ ایران سے مزید جنگ ہو یا نئے حملے شروع ہوں
-
بلاول بھٹو نے سرعام شازیہ مری کو سخت لہجے میں ڈانٹ دیا
-
افغانستان: جسمانی سزاؤں میں اضافہ، توہین طالبان بھی قابل تعزیر
-
سلامتی کونسل میں افریقہ کی نمائندگی نہ ہونا تاریخی نا انصافی، گوتیرش
-
اسرائیل حزب اللہ بڑھتی ڈرون دوڑ امن کاروں اور جنگ بندی کے لیے خطرہ
-
استعمال شدہ پلاسٹک کو دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے ضوابط کی ضرورت
-
غزہ: اسرائیل کا پولیس کو نشانہ بنانا جنگی جرم، انسانی حقوق دفتر
-
افغانستان غذائی قلت: یو این ادارہ زندگی سے رشتہ جوڑے رکھنے میں مصروف
-
غزہ: ملبے کے ڈھیر سے سمندر میں جزیرے بنانے کا منصوبہ
-
ملک کی معاشی صورتحال سنگین ہے معاشی مشکلات میں کمی نہیں اضافہ ہی نظر آرہا ہے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.