نئی دلی، چلتی بس میں خاتون سے اجتماعی زیادتی، سکیورٹی انتظامات پر سوالات

ملزمان خاتون کو زخمی حالت میں سڑک کنارے چھوڑ کر فرار ہوگئے،مقدمہ درج کر لیاگیا

جمعہ 15 مئی 2026 14:10

نئی دلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 مئی2026ء) دنیا بھر میں ’’ریپ کیپٹل ‘‘کی شہر ت رکھنے والے بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں ایک 30 سالہ خاتون کے ساتھ چلتی سلیپر بس میں اجتماعی عصمت دری کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد شہر میں خواتین کے تحفظ اورسکیورٹی پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق متاثرہ خاتون، جو تین بچوں کی ماں بتائی جاتی ہے اور پتم پورہ کی رہائشی ہے، منگل پوری میں واقع ایک فیکٹری میں اپنی شام کی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد گھر واپس جا رہی تھی۔

خاتون کے بیان کے مطابق اسے سرسوتی وہار کے بی بلاک بس اسٹینڈ کے قریب زبردستی ایک نجی بس میں کھینچ لیا گیا۔متاثرہ خاتون کاکہنا ہے کہ بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر نے چلتی گاڑی میں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔

(جاری ہے)

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ نانگلوئی میٹرو اسٹیشن کی جانب جاتے ہوئے پیش آیا اور متاثرہ کو تقریبا دو گھنٹے تک تشدد اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزمان خاتون کو زخمی حالت میں سڑک کنارے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ بعد ازاں متاثرہ خاتون نے پی سی آر کال کے ذریعے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد رانی باغ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس وکرم سنگھ نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔یاد رہے کہ یہ واقعہ2012کے مشہور نربھیا گینگ ریپ کیس کے بعد دلی میں خواتین کے تحفظ سے متعلق خدشات کو دوبارہ نمایاں کر رہا ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شہر میں رات کے وقت خواتین کی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔