زیر سماعت کیس پر جلد فیصلہ کرکے این اے 262 کیلئے جعلی کی بجائے حقیقی نمائندگی کے آئینی حق کو تسلیم کیا جائے،رمضان اچکزئی

اتوار 17 مئی 2026 02:20

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 مئی2026ء) آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز بلوچستان کے مرکزی چیئرمین و مزدور رہنمااور گزشتہ جنرل الیکشن میں حلقہ این ۔اے 262 سے قومی اسمبلی کے امیدوار محمد رمضان اچکزئی نے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں فارم 47 کے سلیکٹڈ ایم این اے عادل بازئی کی طرف سے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر سعد بن اسد پر سنگین الزامات عائد کرنے کو مکافات عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ 08 فروری 2024 کو جنرل الیکشن میں ضلع کوئٹہ سے سعد بن اسد ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر یعنی ریفری کے فرائض سرانجام دے رہے تھے جبکہ عادل بازئی قومی اسمبلی کے امیدار کی حیثیت سے ایک کھلاڑی کے طور پر دوسرے امیدواروں کی طرح الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔

اس وقت کے ریفری اور اس ناجائز طور پر سلیکٹڈ کھلاڑی نے ساری رات بارگیننگ کی۔

(جاری ہے)

مالی معاملات کے ذریعے الیکشن کو جیتنے اورآزاد امیدوار کی حیثیت سے سلیکٹ ہونے کے بعداسٹامپ پیپر پرتحریری طور پر مسلم لیگ ن میں شمولیت کی جس کے گواہ مسلم لیگ ن کے ایم پی اے زرک خان مندوخیل ہے لیکن بعد ازاں پی ٹی آئی کے نوجوانوں کی طرف سے ان کے گھر پر دعویٰ بولنے کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن کے الاٹ شدہ سیٹ جس کا ووٹ مخصوص نشستوں کیلئے بھی استعمال ہوا تھا۔

انہوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق ڈی سیٹ ہونے کے بعد مسلم لیگ ن میں شمولیت سے انکار کرکے سپریم کورٹ میں مخصوص ججوں کے سامنے کیس دائر کرکے اپنا سیٹ بحال کرایا۔ حلقہ این اے 262 کے امیدوار کی حیثیت سے میں نے ڈپٹی کمشنر اور اس جعلی ایم این اے کے خلاف الیکشن کمیشن ، الیکشن ٹریبونل، ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ میں بھی کیسز دائر کیے جو تاحال عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے ۔

آج اگر آئین کے آرٹیکل 218 کے شفاف انتخابات کرانے کی گارنٹی کے تحت حلقہ این اے 262 کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی، بیلٹ پیپرز کے کاونٹر فائل پر شناختی کارڈ کے نمبرز، انگوٹھوں کی فرانزک اور بیلٹ پیپروں کی تعداد کے مطابق دوبارہ گنتی کا فیصلہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ موصوف ڈپٹی کمشنر اور جعلی ایم این اے کی لڑائی الیکشن کے معاملات پر ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کا پورا بھانڈا کھل جائے گا اور عوام جان سکیں گے کہ ان کی لڑائی کی اصل وجوہات کیا ہیں۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ اور آئینی عدالت سے اپیل کی ہے کہ میرے زیر سماعت کیس پر جلد سے جلد فیصلہ کرکے حلقہ این اے 262 کیلئے جعلی کی بجائے حقیقی نمائندگی کے آئینی حق کو تسلیم کیا جائے۔