امریکہ نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر12.5 فیصد تک نیا ٹیرف عائد کردیا

سپریم کورٹ کی جانب سے رواں سال فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کے کئی سابقہ محصولات کو منسوخ کیے جانے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی حکومت نے اتنے بڑے پیمانے پر نئے درآمدی ٹیکسز متعارف کروادیئے

Sajid Ali ساجد علی بدھ 3 جون 2026 15:22

امریکہ نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر12.5 فیصد تک نیا ٹیرف عائد کردیا
امریکہ نے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے 60 اہم تجارتی شراکت دار ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے درآمدی ٹیکسز یعنی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا، یہ سخت فیصلہ ان ممالک کی جانب سے جبری مشقت کے خلاف مؤثر قوانین بنانے اور ان پر عملدرآمد کروانے میں ناکامی کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر سے امریکہ کو سامان برآمد کرنے والے 60 بڑے ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف نافذ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے، امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے رواں سال فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کے کئی سابقہ محصولات کو منسوخ کیے جانے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی حکومت نے اتنے بڑے پیمانے پر نئے درآمدی ٹیکسز متعارف کروائے ہیں۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ اس نئی ٹیرف پالیسی کی زد میں آنے والے 60 تجارتی شراکت داروں کی فہرست میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان جیسے بڑے اور اہم ترین امریکی تجارتی پارٹنرز شامل ہیں، یہ وہ ممالک ہیں جو امریکہ کو فروخت ہونے والی تقریباً تمام اشیاء ہی برآمد کرتے ہیں اور امریکہ کی مجموعی طور پر 99.4 فیصد درآمدات انہی خطوں سے آتی ہیں۔

امریکی محکمۂ تجارت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک طویل تحقیقاتی عمل کے بعد منگل کے روز سامنے آیا، جس کا آغاز مارچ میں کیا گیا تھا، تحقیقات کے بعد پتا چلا کہ یہ تمام 60 ممالک نہ تو جبری مشقت سے مکمل یا جزوی طور پر تیار ہونے والی اشیاء کی درآمد پر کوئی سخت قانونی پابندی عائد کرنے میں کامیاب ہوئے اور نہ ہی ایسی کسی پابندی کو اپنے ہاں مؤثر طریقے سے نافذ کرسکے ہیں، ایسے ممالک کے ساتھ تجارت کرنا جو جبری مشقت سے بنی اشیاء خریدتے یا بیچتے ہیں، امریکہ کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔

امریکی نمائندہ برائے تجارت جیمیسن گریئر نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جبری مشقت کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں ایسی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے جس میں خود امریکی کارکنوں اور مصنوعات کو عالمی سطح پر غیر مساوی اور غیر منصفانہ مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔