عالمی بینک کا پاکستان کے ساتھ تعاون لائق ستائش ، افرادی قوت کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ضروری ہے، وزیرخزانہ

بدھ 3 جون 2026 17:42

عالمی بینک  کا  پاکستان کے ساتھ  تعاون لائق ستائش  ، افرادی قوت کو  جدید ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) وفاقی وزیرِ برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمداورنگزیب نے عالمی بینک گروپ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دیرینہ اورپائیدارتعاون کوسراہتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی افرادی قوت کو تیزی سے بدلتی عالمی معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ضروری ہے، انہوں نے انسانی سرمائے کے اشاریوں کو بہتر بنانے، افرادی قوت کی شرکت کو مضبوط کرنے اور بد لتی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کوہنراور مہارتیں فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں عالمی بینک گروپ کے وفدسے ملاقات میں کہی جس کی قیادت انسانی ترقی (صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ) کی نائب صدر ممتامرتھی کر رہی تھیں۔ عالمی بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹربولورماآمگابازر، انسانی ترقی کی علاقائی ڈائریکٹرکیکواینوئی، ہیلتھ پریکٹس مینیجشیرین ورکی اور آئی ایف سی کے ڈائریکٹر سائمن اینڈریوبھی وفدمیں شامل تھے۔

(جاری ہے)

وزیرخزانہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی بینک گروپ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مسلسل شراکت داری کو سراہا اور ملک کی ترقیاتی اور اصلاحات کے ترجیحات میں گروپ کے تعاون کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کی بحالی کے حوالے سے اہم پیشرفت کی ہے اور حکومت کی توجہ اب صحت، تعلیم، مہارتوں کی ترقی اور سماجی تحفظ میں ہدف پرمبنی سرمایہ کاری کے ذریعے سماجی اور انسانی ترقی کے نتائج بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔

انہوں نے پاکستان کے لئے ورلڈ بینک کے طویل المدتی کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت قابلِ پیمائش نتائج اور مؤثر عمل درآمد پر مضبوط توجہ برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیرِ خزانہ نے کہاکہ پاکستان کی بڑی اور نوجوان آبادی ایک اہم موقع اور اہم پالیسی ترجیح ہے ، ضرورت اس امرکی ہے کہ انسانی سرمائے کے اشاریوں کو بہتر بنانے، افرادی قوت کی شرکت کو مضبوط کرنے، اور نوجوانوں کو بدلتی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کی جائیں ۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ پائیدار معاشی ترقی اور مسابقتی صلاحیت کے لئے لوگوں پر مسلسل سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ پیداواری صلاحیت، خدمات کی فراہمی اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لئے اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ ملاقات میں پاکستان کا انسانی ترقی کا ایجنڈا سرفہرست رہا جس میں زچہ و بچہ کی صحت، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات، ابتدائی بچپن کی نشوونما، تعلیمی نتائج اور آبادی سے متعلق چیلنجز شامل تھے۔

ممتا مرتھی نے زور دیا کہ طویل المدتی ترقیاتی نتائج کا انحصار انسانی سرمائے کے کلیدی اشاریوں میں مسلسل بہتری بالخصوص بچوں کی غذائیت، نشوونما میں رکاوٹ و کمی، بنیادی تعلیم کے معیار اور معیاری صحت و تعلیم کی خدمات تک رسائی کے حوالے سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی شمولیت کا مقصد قابلِ پیمائش نتائج کے حصول اور خدمات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے تاکہ ملک بھر میں مؤثر انداز میں ماؤں اور بچوں تک ضروری مداخلتیں پہنچ سکیں۔

اجلاس میں بنیادی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور ماؤں اور بچوں کے لئے ضروری خدمات تک رسائی بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ شرکا نے صحت، تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے بڑھتے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی افرادی قوت کو تیزی سے بدلتی عالمی معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ضروری ہے۔

عالمی بینک کے وفد نے ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی فراہمی، صحت کی مالی معاونت اور نجی شعبے کی شمولیت سے متعلق بین الاقوامی تجربات سے آگاہ کیا۔گفتگو کا ایک اہم حصہ مہارتوں کی ترقی، افرادی قوت کی تیاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز رہا۔ وزیرِ خزانہ نے ابھرتی معاشی ضروریات کو پورا کرنے اور زیادہ قدر والے روزگار کے مواقع تک رسائی کے لئے پاکستان کی افرادی قوت کی مہارتوں میں اضافہ اور ازسرِنو مہارت سازی کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ بالخصوص نوجوانوں کی ملازمت کے قابل صلاحیتوں میں اضافہ حکومت کے وسیع تر معاشی تبدیلی کے ایجنڈے کا مرکزی جزو رہے گا۔ عالمی بینک کے وفد نے افرادی قوت کی ترقی، تکنیکی و پیشہ وارانہ تربیت، اور روزگار پر مبنی مہارتی پروگراموں سے متعلق بین الاقوامی تجربات کا تبادلہ کیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ صنعتوں کے ساتھ مضبوط روابط، تربیتی اقدامات میں نجی شعبے کی زیادہ شمولیت اور نتائج پر مبنی طریقہ کار ضروری ہیں تاکہ مہارتوں کی ترقی کے پروگرام حقیقی لیبر مارکیٹ کی طلب اور روزگار کے مواقع کے مطابق ہم آہنگ ہو سکیں۔

اجلاس میں حکومت،عالمی بینک گروپ اور نجی شعبے کے درمیان پاکستان کے انسانی سرمائے کے اہداف کے حصول کے لئے وسیع تر تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں ممتا مرتھی نے پاکستان کو رواں سال کے آخر میں جاپان میں منعقد ہونے والے یونیورسل ہیلتھ کوریج سے متعلق عالمی فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فورم حکومتِ جاپان کے تعاون سے منعقد ہونے والا ایک مشترکہ اقدام ہے جسے ورلڈ بینک گروپ اور عالمی ادارہ صحت باہمی طور پر سہولت فراہم کر رہے ہیں تاکہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کے حصول کی جانب پیشرفت کو فروغ دیا جا سکے۔

وزیرِ خزانہ نے عالمی بینک گروپ کی مسلسل شمولیت کو سراہا اور انسانی سرمائے کو مضبوط بنانے، سماجی نتائج بہتر کرنے، روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے اور جامع و پائیدار معاشی ترقی کی حمایت کرنے والی اصلاحات کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔فریقین نے صحت، تعلیم، سماجی تحفظ، افرادی قوت کی ترقی اور ٹیکنالوجی پرمبنی خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں پاکستان کی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لئے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔\932