انٹرنیشنل کاٹن کانفرنس میں امریکہ، چین اور مقامی سائنسدانوں کے پیش کئے گئے تجربات سے شرکا کو سیکھنے کا موقع ملا، افتخار علی سہو
بدھ 10 جون 2026 20:10
(جاری ہے)
ماہرین کپاس کی بہتر پیداوار کے حصول کے لیے کیلنڈر سرگرمیاں مرتب کریں۔سائنسدان کپاس کی کلائمیٹ سمارٹ اقسام دریافت کریں، مکینیکل ہارویسٹنگ کی حامل نئی اقسام کی دریافت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کپاس کی بہترین مینجمنٹ میں حالیہ قیمتوں میں اضافہ کا اہم کردار ہوگا۔کانفرنس میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر زرعی یونیورسٹی ملتان پاکستان کی جانب سے ملک کے پہلے آن لائن کپاس کے بنیادی ڈیٹا بیس کا افتتاح بھی کر دیا گیا، جسے ماہرین نے جینیاتی کپاس تحقیق، بہتری اور نئی اقسام کی تیاری کے لیے ایک انقلابی اقدام قرار دیا۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ اس سال پاکستان کا سب سے بڑا زرعی چیلنج کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط قومی حکمتِ عملی ضروری ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل گرین پاکستان انیشئیٹوز میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا کہ کپاس کے شعبے کی بحالی کے لیے فوری طور پر ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرونز، اسمارٹ مشینری، پریسیژن سیڈرز اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز کو عملی طور پر نافذ کیا جائے تاکہ پیداوار میں اضافہ اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈاکٹر کٹر ڈیوس نے کہا کہ کپاس کی بہتری کے لیے فوری طور پر نیشنل کپاس ہیلتھ سرویلنس نیٹ ورک قائم کیا جائے جو بیماریوں، کیڑوں اور مزاحمتی رجحانات کی مسلسل نگرانی کرے۔ڈاکٹر البرٹ سانتوس نے کہا کہ کپاس کی عالمی مسابقت میں سب سے اہم عنصر فائبر کوالٹی ہے، لہذا پاکستان کو فوری طور پر جدید HVI لیبارٹریز قائم کرنا ہوں گی۔ڈاکٹر اقبال بندیشہ نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی، بیماریوں اور کیڑوں کا بڑھتا ہوا دبا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلابی سنڈی، سفید مکھی اور کپاس کے وائرس کے خلاف مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ ماہرین نے مجموعی طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں کپاس کی بحالی صرف فوری، عملی اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے تجربات سے سیکھ کر پاکستان اپنیزرعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر سکتا ہے، بصورت دیگر کپاس کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔مزید زراعت کی خبریں
-
ملک میں غیر موثر آبپاشی کے طریقوں کے باعث ہر سال تقریباً 50 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہوتا ہے ،ماہرین
-
پاکستان اور چین کا ٹماٹر کی اعلیٰ پیداواری اقسام متعارف کرانے پر اتفاق،معاہدے پر دستخط
-
پاکستان کے قومی پھل آم کی برآمدات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا
-
پنجاب میں زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کیخلاف ہائیکورٹ میں آئینی رٹ پٹیشن دائر
-
پاکستان بزنس فورم کا 28ویں آئینی ترمیم میں معاشی اصلاحات کو شامل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا بھر میں کچھووں کا عالمی دن ’’ورلڈ ٹرٹل ڈے‘‘ 23 مئی کو منایا جائے گا
-
وہاڑی میں ایک لاکھ 45 ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت کا ہدف، کاشتکاروں کو معیاری بیج و کھاد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت
-
دھان کی اقسام اور وقتِ کاشت بارے سفارشات جاری
-
آرگینک فارمنگ آنے والے برسوں میں ملکی معیشت کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے‘ نجم مزاری
-
پاکستان میں آم کازیر کاشت رقبہ1لاکھ75ہزار308 ایکڑجبکہ پنجاب میں 1لاکھ14ہزار432 ایکڑہے، ترجمان مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کاوشیں رنگ لے آئیں، پنجاب 10 لاکھ مویشی برآمد کرے گا
-
محکمہ زراعت پنجاب کی آم کے تیلے کے انسداد بارے سفارشات جاری
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.