Live Updates

تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف ملے گا یا نہیں؟ حکومت کو آئی ایم ایف کے جواب کا انتظار

وفاقی حکومت نے نئے مالیاتی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کیلئے ہوم ورک مکمل کرلیا، تاہم ان تمام تجاویز کا مستقبل اس وقت بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی توثیق سے مشروط

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 11 جون 2026 11:28

تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف ملے گا یا نہیں؟ حکومت کو آئی ایم ایف ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2026ء) ملک کے ٹیکس گزاروں اور بالخصوص مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر حکومت نے انکم ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ایک جامع پلان تیار کر لیا ہے، جس کے تحت لاکھوں ملازمین کی جیبوں کو براہِ راست ریلیف ملے گا تاہم اس پر عملدرآمد کیلئے حکومت کو آئی ایم ایف کے جواب کا انتظار ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے نئے مالیاتی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کے لیے ہوم ورک مکمل کرلیا، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہانہ ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک کمانے والے ملازمین کے لیے ٹیکس چھوٹ کی باقاعدہ ورکنگ آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جس سے ملک کے لاکھوں سفید پوش افراد کو مالی فائدہ پہنچے گا۔

بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ٹیکس کے نظام کو متوازن اور پبلک فرینڈلی بنانے کے لیے جو اقدامات تجویز کیے ہیں ان میں تنخواہ دار طبقے کے لیے موجودہ ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مختلف آمدنی والے گروہوں پر ٹیکس کا بوجھ ان کی بساط کے مطابق تقسیم کیا جا سکے، سالانہ 12 لاکھ یعنی ایک لاکھ ماہانہ، 22 لاکھ تقریباً پونے دو لاکھ ماہانہ اور 32 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی موجودہ شرح کو واضح طور پر کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

حکومتی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکسوں میں نرمی کے اس پلان کو عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے سامنے رکھ دیا گیا ہے، حکومت نے آئی ایم ایف کو 3 فیصد، 5 فیصد اور 10 فیصد تک ٹیکس ریلیف دینے کی مختلف تجاویز بھیجی ہیں، اگر ان تجاویز کو گرین سگنل مل جاتا ہے تو ماہانہ 2 سے 3 لاکھ روپے تنخواہ لینے والے ملک کے تقریباً ساڑھے 5 لاکھ ملازمین کو اس کا براہِ راست فائدہ ہوگا۔

معلوم ہوا ہے کہ اس ریلیف پیکیج میں ناصرف مڈل کلاس بلکہ بڑے کاروباری اداروں اور برآمدی شعبے کے لیے بھی اہم مراعات شامل ہیں، ایسے افراد جن کی سالانہ آمدنی 1 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہے، ان پر عائد 10 فیصد اضافی سرچارج کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ملک میں رائج 35 فیصد کے سب سے بڑے انکم ٹیکس ریٹ کو بھی نیچے لانے کے لیے ورکنگ مکمل کر لی گئی ہے، ملکی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ایکسپورٹرز پر عائد 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس کو بھی مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز بجٹ کا حصہ بنائی گئی ہے، تاہم ان تمام تجاویز کا مستقبل اس وقت بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی توثیق سے مشروط ہے۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات