پاکستان ،چین کے درمیان بھینسوں کے ایمبریوز کی برآمد کا معاہدہ

معاہدے کے تحت پاکستان سے چین کو بھینسوں کے ایمبریوز، بیضے ،منجمد ماد تولید برآمد کیا جا سکے گا

جمعرات 11 جون 2026 12:18

پاکستان ،چین کے درمیان بھینسوں کے ایمبریوز کی برآمد کا معاہدہ
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جون2026ء) پاکستان اور چین کے درمیان لائیو اسٹاک اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دیتے ہوئے بھینسوں کے ایمبریوز ، اووااور منجمد سیمن کی چین برآمد کرنے کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابقوزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق پاکستان اور چین کے رائل گروپ کے درمیان معاہدے کی باضابطہ منظوری دی گئی۔

معاہدے کے تحت پاکستان اب چین کو بھینسوں کے ایمبریوز، بیضے اور منجمد ماد تولید برآمد کر سکے گا۔چینی کمپنی رائل گروپ نے اس مقصد کے لیے لاہور میں رائل سیل بائیوٹیکنالوجی کمپنی پاکستان کے نام سے اپنی ذیلی کمپنی قائم کر رکھی ہے جسے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے محکمہ حیوانی قرنطینہ میں باقاعدہ رجسٹر بھی کرایا جا چکا ہے۔

(جاری ہے)

رائل سیل بائیوٹیکنالوجی کمپنی پاکستانکے پروگرام مینیجر ڈاکٹر قیصر شہزاد کے مطابق کمپنی نے چینی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تمام تکنیکی، قانونی اور قرنطینہ سے متعلق شرائط پوری کر لی ہیں جس کے بعد برآمدات کی باقاعدہ منظوری حاصل ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ آزمائشی بنیادوں پر پاکستان پہلے ہی چین کو 10 ہزار بھینسوں کے ایمبریوز برآمد کر چکا ہے جن کی مالیت تقریباً 20 لاکھ امریکی ڈالر تھی۔ اس ابتدائی مرحلے کی کامیابی کے بعد دونوں ممالک نے تعاون کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈاکٹر قیصر شہزاد کے مطابق چین آئندہ دس برسوں کے دوران پاکستان سے کم از کم 3 لاکھ بھینسوں کے ایمبریوزدرآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

چین میں بھینس کے دودھ اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستانی بھینسیں اپنے اعلی معیار کے دودھ اور زیادہ پیداوار کی وجہ سے عالمی سطح پر شہرت رکھتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چین جدید حیاتیاتی اور تولیدی ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کی اعلی نسل کی بھینسوں کی افزائش اور جینیاتی بہتری میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ اس تعاون سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان زرعی و حیوانی شعبے میں شراکت داری مضبوط ہوگی بلکہ پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر کے لیے نئی برآمدی منڈیاں اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔