کراچی بی آر ٹی منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی

جمعرات 11 جون 2026 16:07

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جون2026ء) کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب منصوبے کی دستاویزات کے مطابق یلو لائن بی آر ٹی کو کراچی بریز نیٹ ورک کے ساتھ مربوط ایک جدید تیسری نسل کے ٹرانزٹ نظام کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ عالمی بینک کے مالی تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں عوامی نقل و حمل کے نظام کو جدید بنانا ہے۔منصوبے کے تحت 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا جو ٹاور تک جانے والے مشترکہ کوریڈور سے بھی منسلک ہوگا۔

(جاری ہے)

اس روٹ پر مجموعی طور پر 28 سٹیشن قائم کئے جائیں گے جن میں 22 زمینی سطح پر جبکہ 6 زیرِ زمین ہوں گے۔

منصوبے کے تخمینوں کے مطابق یہ نظام روزانہ 2 لاکھ 60 ہزار سے 3 لاکھ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا جس سے سالانہ مسافروں کی تعداد تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔سفر کے دورانیے میں کمی اور خدمات کے بہتر معیار کی بدولت ہر سال تقریباً 36 لاکھ گھنٹوں کی بچت متوقع ہے۔دستاویزات کے مطابق کوریڈور پر چلنے والی بسوں کی اوسط رفتار 21 سے 26 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی جبکہ اس وقت شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کی اوسط رفتار 10 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی کم ہے۔

منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسوں پر مشتمل فلیٹ تجویز کیا گیا ہے جس میں 9 میٹر لمبی 19 بسیں، 12 میٹر لمبی 133 بسیں اور 18 میٹر لمبی 104 آرٹیکیولیٹڈ (جوڑ دار) بسیں شامل ہوں گی۔ مسلسل آپریشن کو یقینی بنانے کے لئے فلیٹ میں 8 فیصد اضافی ریزرو صلاحیت بھی رکھی گئی ہے۔یہ ٹرانسپورٹ نظام 6 براہِ راست روٹس اور 3 فیڈر سروسز کے ذریعے چلایا جائے گا جس سے اطراف کے رہائشی علاقوں کے مسافروں کو مرکزی بی آر ٹی کوریڈور تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔

یلو لائن منصوبے پر اس وقت تعمیراتی کام جاری ہے اور حکام نے جنوری 2028 میں بی آر ٹی آپریشنز شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ منصوبے کی دستاویزات کے مطابق الیکٹرک بسوں کی فراہمی فروری 2028 سے شروع ہونے کی توقع ہے۔یہ منصوبہ سندھ میں پائیدار شہری نقل و حمل کے شعبے میں کی جانے والی سب سے بڑی سرمایہ کاریوں میں سے ایک ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کراچی میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی، سفر کے دورانیے میں بہتری اور ماحول دوست عوامی ٹرانسپورٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔