قومی اسمبلی بجٹ 2026-27 پر بحث

حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے مہنگائی، بے روزگاری، زراعت، صنعت، قرضوں اور عوامی مشکلات سے متعلق مختلف تحفظات کا اظہار

ہفتہ 13 جون 2026 22:02

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 جون2026ء) قومی اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے مہنگائی، بے روزگاری، زراعت، صنعت، قرضوں اور عوامی مشکلات سے متعلق مختلف تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ اجلاس کی کارروائی آج صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے بجٹ کو آئی ایم ایف کے اثر و رسوخ کے تحت تیار کردہ دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگلات اور زراعت سمیت مختلف شعبوں کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بے روزگاری، مہنگائی اور سرکاری قرضوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں کا بوجھ بھی عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ شہلا رضا نے کہا کہ حکومت زر مبادلہ کے ذخائر اور روپے کے استحکام کو معاشی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے، تاہم معیشت کی اصل مضبوطی برآمدات، پیداواری صلاحیت اور عوام کی قوت خرید میں اضافے سے آتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئے قرضوں کے بجائے برآمدات اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دی جائے۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی رانا عاطف نے کہا کہ بجٹ عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر اور زمینی حقائق سے دور ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں غربت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ فیصل آباد کی صنعتیں بند ہونے اور بجلی کی بلند قیمتوں نے کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

ڈاکٹر نثار جٹ نے بجٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں غریب طبقے کے لیے کوئی مؤثر ریلیف موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی صنعتیں بند ہو رہی ہیں، مالیاتی خسارہ برقرار ہے اور ٹیکس پالیسیوں نے کاروباری طبقے کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصل آباد میں متعدد چھوٹی صنعتیں بند ہونے سے مزدور طبقہ شدید متاثر ہوا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے بلوچستان کے مسائل اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران موجود ہے جبکہ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں قومی پالیسی مرتب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو مستقبل کی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ترقی کے ثمرات مقامی آبادی تک پہنچانے پر زور دیا۔رکن قومی اسمبلی شیر علی ساہی نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور غربت بدستور اہم چیلنجز ہیں جبکہ معاشی شرح نمو توقعات سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں غربت میں اضافہ ہوا ہے اور غربت کے خاتمے کے لیے صرف سماجی امدادی پروگراموں پر انحصار کافی نہیں، بلکہ روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی ضرورت ہے۔شیر علی ساہی نے خیبرپختونخوا کے وسائل اور گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان علاقوں کو ان کے حقوق اور سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔بجٹ پر بحث کے دوران ارکان نے مہنگائی، بے روزگاری، زراعت، صنعت، توانائی، صوبائی حقوق، نوجوانوں کے روزگار اور معاشی اصلاحات سمیت مختلف قومی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔