35 علماء و ذاکرین پر ضلع اٹک کی حدود میں تقاریر اور خطابات کرنے پر 90 روزہ پابندی عائد

ہفتہ 20 جون 2026 17:18

اٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 جون2026ء) ضلعی انتظامیہ اٹک نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے 35 علماء و ذاکرین پر ضلع اٹک کی حدود میں تقاریر اور خطابات کرنے پر 90 روزہ پابندی عائد کر دی ہے۔ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق یہ فیصلہ ضلعی پولیس آفیسر اٹک، اسپیشل برانچ کی رپورٹس اور ڈویژنل انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔

رپورٹس میں بعض افراد کی تقاریر سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور امن عامہ متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

(جاری ہے)

حکم نامے کے تحت جن علماء و ذاکرین پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں مولانا حبیب اللہ، مفتی انعام اللہ، مولانا طارق، شہزاد چشتی، رفاقت حقانی، ضیاء احمد نورانی، مدثر شاہ، قاری محمد انور شاکر، قاری محمد ریاض، حافظ نصرت خان، قاری چن محمد، مولانا عبیدالرحمن، مولانا مہدی شاہ زمان، احسان الحق جامی، مولانا حسین احمد، سید امجد حسین شاہ، جہان خان، مولانا افتخار احمد فاروقی، قاری محمد شریف، مفتی ناصر علی، قاری محمد حیات، مولانا زکریا کلیم اللہ، قاری مشتاق، قاری سخاوت حسین، وقار حسین کربلائی، پروفیسر نجم الحسن، علامہ ساجد علی نقوی، ثاقب، مرید عمران، مولانا ناصرالدین، اشفاق شاکر، قاری غلام حیدر، مولانا محمد آصف، مولانا عبدالرشید اور امجد حسین شامل ہیں۔

\378