Live Updates

ملک مہنگائی ، سیاسی افراتفری، بدامنی کے سنگین مسائل کے نرغے میں ہے‘حافظ نعیم الرحمن

ہفتہ 11 جولائی 2026 20:21

ملک مہنگائی ، سیاسی افراتفری، بدامنی کے سنگین مسائل کے نرغے میں ہے‘حافظ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جولائی2026ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کو مہنگائی ، دہشت گردی، بلوچستان میں بدامنی اور آزاد کشمیر کی بگڑتی صورتحال جیسے سنگین داخلی مسائل درپیش ، بہتری کے لیے سنجیدہ قومی حکمت عملی اپنانا ہوگی ، جماعت اسلامی ساری صورتحال میں خاموش نہیں رہے گی، بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، عوامی رابطے بڑھائے جائیں گے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو منصورہ میں جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دو روزہ اجلاس میں ملک بھر سے مرد و خواتین اراکین شوریٰ شریک ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کی بے مثال قربانیوں اور استقامت نے امریکہ اور اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا تاثر ختم کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

دنیا پر غلبے کا دعویٰ کرنے والی طاقتوں کو فلسطینی عوام نے شکست دی اور اس کا اصل کریڈٹ اہلِ فلسطین کو جاتا ہے۔ انہوں نے ایران پر حالیہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے بھی بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور یہ تاثر غلط ثابت کر دیا کہ ایران اندرونی طور پر تقسیم ہے۔ ایرانی عوام نے اتحاد کا ثبوت دیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار نے نہ صرف انہیں بلکہ امریکہ کو بھی عالمی سطح پر مذاق بنا کر رکھ دیا۔

مجلس شوریٰ عوامی مسائل کے حل، سیاسی کردار کے فروغ اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے اور اعلانات کرے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال مسلسل تشویشناک ہے، جماعت اسلامی نے صوبے میں حالات کی بہتری کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلوچستان کے چار مختلف مقامات پر بنوقابل کا آغاز کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کیے جائیں۔

جماعت اسلامی بلوچستان کے مسئلے پر خاموش اور غیر متعلق نہیں رہ سکتی۔ آزاد کشمیر کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ خطہ میں سیاسی عمل کو کمزور کیا گیا، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کے ابتدائی مطالبات تو تسلیم کیے گئے، تاہم بعد میں اسمبلی میں راتوں رات تبدیلیاں کرکے ایسے شخص کو وزیر اعظم بنایا گیا جس کے ساتھ کوئی سیاسی قوت موجود نہیں تھی، اکثریت کو وزارتوں اور مشاورت کے ذریعے تقسیم کر دیا گیا۔

موجودہ مرحلے میں مسائل کے حل کے لیے ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے بجائے سخت طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عوام میں مایوسی اور ردعمل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس معاملے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے ذمہ دارانہ کردار ادا کررہی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر باعث تشویش ہے۔ افغان حکومت کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، پاکستان کو بھی افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے، تیل، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ غریب طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ جماعت اسلامی کی تنظیمی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جماعت کو ہر شعبہ زندگی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہوگا تاکہ وہ عوام کے لیے ایک مؤثر اور متعلقہ سیاسی و دینی قوت کے طور پر نمایاں نظر آئے۔

دعوت، سیاست اور عوامی خدمت سمیت ہر میدان میں جماعت اسلامی کی موجودگی مضبوط ہونی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں لسانی گروہ دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں، اس لیے ریاستی اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ امیر جماعت اسلامی نے ضلعی قیادت کو ہدایت کی کہ بہاولنگر میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کیے گئے پیدل مارچ کی طرز پر ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم، احتجاجی مارچ اور مقامی مسائل کے حل کے لیے سرگرمیاں شروع کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پیدل مارچ ممکن نہ ہو تو مقامی حالات کے مطابق دیگر مؤثر ذرائع اختیار کیے جائیں تاکہ عوام کے مسائل حل ہوں اور جماعت کا عوامی نفوذ مزید مضبوط ہو۔ امیر جماعت اسلامی نے آئندہ ماہ ہونے والے ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات اگرچہ بیشتر علاقوں میں التوا کا شکار ہیں، تاہم جماعت اسلامی کو ابھی سے اپنی تیاری مکمل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ امیدوار عوامی کمیٹیوں اور فلاحی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کریں تاکہ عوام کے ساتھ مضبوط رابطہ قائم ہو سکے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات