منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان کثیر الجہتی بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے ، ڈاکٹر سکندر اقبال

اتوار 21 جون 2026 12:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 جون2026ء) منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان ایک کثیر الجہتی بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے ، عالمی برادری کے مربوط اور جامع اقدامات سے اس بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر سکندر اقبال نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ایچ آئی وی ، ہیپاٹائٹس اور سماجی تنزلی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے ۔

اقوام متحدہ کےذیلی ادارے یو این او ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق دس سال کے دوران دنیا بھر میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ 2013تا 2023 کے دوران عالمی سطح پر منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد 31 کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر 17 افراد میں سے ایک شخص منشیات کا استعمال کرتاہے ۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 6 کروڑ 40 لاکھ افراد نشے کی بیماری کا شکار ہیں اور 11 میں سے ایک فرد ہی علاج تک رسائی حاصل کر پاتا ہے ۔

واضح رہے کہ سال 2021 میں منشیات سے پانچ لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار گئے ۔ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ دنیا بھر میں منشیات کی لعنت پر قابو پانے اور اس کی سمگلنگ کے تدارک کیلئے 26 جون کو بین اقوامی دن منایا جاتا ہے ۔ رواں سال کیلئے اس دن کا موضوع’’ انصاف کیلئےصحت ،صحت کیلئے انصاف‘‘ منتخب کیاگیا ہے جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف قانون نافذ کرنے اداروں کیلئے ایک چیلنج اور صحت عامہ کا مسئلہ ہے بلکہ انصاف ، انسانی وقار ، سماجی بہبود اور صحت کےمابین ایک گہرا تعلق بھی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کے جامع اور مربوط اقدامات سے منشیات کی لعنت پر قابو پایا جا سکتا ہے جس سے نوجوان طبقہ کو محفوظ رکھنے میں مددملے گی۔\395