فوجداری قوانین میں ترامیم غیر سیاسی نوعیت کی،عدالتوں کے فیصلوں میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں، اعظم نذیر تارڑ

پیر 22 جون 2026 23:03

فوجداری قوانین میں ترامیم غیر سیاسی نوعیت کی،عدالتوں کے فیصلوں میں ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 جون2026ء) قومی اسمبلی میں داخلہ ڈویڑن کے مطالباتِ زر پر بحث کے دوران امن و امان، منشیات، انسانی اسمگلنگ، چیک پوسٹوں، پاسپورٹ دفاتر میں بدعنوانی اور قانون سازی کے معاملات زیر بحث رہے، جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے پر شدید تنقید بھی کی۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت نے فوجداری قوانین میں ترامیم کے لیے ایک جامع مسودہ اسمبلی میں پیش کیا ہے جو اس وقت قائمہ کمیٹی میں زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ترامیم غیر سیاسی نوعیت کی ہیں اور عدالتوں کے فیصلوں میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ قومی یکجہتی کے لیے آواز اٹھائی، مگر حکومت نے سی آر پی سی میں ترامیم کا وعدہ پورا نہیں کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور قومی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا۔

سردار لطیف کھوسہ نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پولیس اور محکمہ داخلہ میں کرپشن سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور حکمرانوں کو اپنی مراعات کم کرنی چاہئیں۔نور عالم خان نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافروں کے ساتھ ناروا سلوک، منشیات کی روک تھام اور سکیورٹی کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالات تشویشناک ہیں اور دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔

عالیہ کامران نے اسلام آباد میں سرکاری اراضی پر تجاوزات، سی ڈی اے کے تاخیر کا شکار منصوبوں، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔شبیر قریشی نے پاسپورٹ دفاتر کے باہر ٹاؤٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہری روزانہ کی بنیاد پر استحصال کا شکار ہیں۔سابق اسپیکر اسد قیصر نے پشاور-اسلام آباد موٹروے پر قائم متعدد چیک پوسٹوں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا ہے اور اس نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔