۹خیبر پختونخوا کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے، گیس پنجاب منتقل کرنا آئینی خلاف ورزی ہی: ایمل ولی خان

'درازندہ گیس فیلڈ سے مقامی آبادی کو نظرانداز کر کے پائپ لائن بچھانے پر اے این پی کا شدید احتجاج، وفاق اور صوبائی حکومت پر وسائل کی حق تلفی کا الزام

اتوار 28 جون 2026 20:15

۹پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 جون2026ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے درازندہ کے کوٹ پلک گیس فیلڈ سے گیس اور تیل کی پیداوار کے باوجود مقامی آبادی کو نظرانداز کرتے ہوئے پنجاب کی جانب گیس پائپ لائن بچھانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر خیبر پختونخوا کے عوام کے آئینی حقوق پامال کر رہی ہیں اور صوبے کے قدرتی وسائل پر دوسروں کا قبضہ ناقابل قبول ہے۔

اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ گیس اور تیل ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ سے نکالا جا رہا ہے، لیکن اس کا فائدہ مقامی آبادی کے بجائے دوسرے صوبوں کو پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ آئین کے مطابق قدرتی وسائل پر پہلا حق اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا روزانہ تقریباً 500 ملین کیوبک فٹ گیس پیدا کرتا ہے، مگر صوبے کو اپنی ہی پیداوار میں سے صرف 150 ملین کیوبک فٹ گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

ان کے بقول، درازندہ میں مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر پنجاب کی جانب گیس پائپ لائن بچھانا آئین، وفاقی اصولوں اور مقامی عوام کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ اپنی ضرورت سے کئی گنا زیادہ گیس اور بجلی پیدا کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں گھریلو اور صنعتی صارفین کو شدید قلت کا سامنا ہے، جس کے باعث صنعتیں بند ہو رہی ہیں، سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ پنجاب میں صنعتوں اور گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس اور بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت پر خیبر پختونخوا کے مالی واجبات ادا نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت بھی اس معاملے میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوٹ پلک، درازندہ اور خیبر پختونخوا کے دیگر گیس و تیل پیدا کرنے والے علاقوں کے عوام کو آئین کے مطابق فوری طور پر گیس فراہم کی جائے، مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا جائے، رائلٹی اور دیگر مالی حقوق شفاف انداز میں ادا کیے جائیں اور صوبے کے قدرتی وسائل پر اس کا آئینی حق عملی طور پر تسلیم کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے وسائل پر کسی بھی قسم کی حق تلفی برداشت نہیں کرے گی اور صوبے کے آئینی، معاشی اور وسائل سے متعلق حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سیاسی، آئینی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھاتی رہے گی۔