Live Updates

ایم ایس ایم ای شعبے کو مضبوط بنائے بغیر پائیدار معاشی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا،مقررین

منگل 30 جون 2026 22:11

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جون2026ء) پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع، برآمدات میں اضافے اور صنعتی شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو مستحکم بنانے کے لیے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (ایم ایس ایم ایز) قومی معیشت کا بنیادی ستون ہیں اور اس شعبے کو مؤثر پالیسی معاونت، جدید کاروباری سہولتوں، مالیاتی رسائی اور سرکاری و نجی شعبوں کے مضبوط اشتراک کے بغیر ملک کی معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

مقررین نے ان خیالات کا اظہار سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف سی سی آئی) کے اشتراک سے عالمی یومِ ایم ایس ایم ای 2026 کے حوالے سے فیصل آباد چیمبر میں منعقدہ اسٹیک ہولڈر انگیج منٹ سیشن کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

تقریب میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، صنعتکاروں، تاجروں، مالیاتی اداروں، صنعتی و تجارتی تنظیموں، تعلیمی اداروں، بزنس انکیوبیشن سینٹرز، خواتین اور نوجوان کاروباری افراد سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز نے بھرپور شرکت کی۔

سیشن کا مقصد ایم ایس ایم ای شعبے کے قومی معیشت، روزگار، برآمدات، جدت طرازی اور پائیدار ترقی میں کردار کو اجاگر کرنے کے ساتھ مختلف اداروں کے درمیان مؤثر روابط کو فروغ دینا تھا۔ مقررین نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز کی ترقی ہی صنعتی توسیع، سرمایہ کاری، اختراع، مقامی صنعت کے استحکام اور لاکھوں نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کی ضمانت بن سکتی ہے۔

فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور یہی شعبہ ملک میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، برآمدات میں اضافے، مقامی پیداوار کو وسعت دینے اور وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت، نجی شعبے، مالیاتی اداروں اور کاروباری تنظیموں کے درمیان مضبوط اشتراک وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کاروباری برادری کو درپیش مسائل کا مؤثر حل نکالا جا سکے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں فیصل آباد چیمبر کے مطالبہ پر ایس ایم ای کی نئی تعریب سے اس شعبہ کی تیز رفتار ترقی کی راہیں کھلیں گی۔

انہوں نے ایس ایم ای سیکٹرکی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کو چھوٹے کاروبار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے خصوصی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے کاروباری افراد کی رہنمائی اور معاونت کے لیے سمیڈا کی مسلسل کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے ملکی اقتصادی استحکام کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تقریب میں فیصل آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بانی صدر روبینہ امجد نے بطور مہمان اعزاز شرکت کی۔

انہوں نے خواتین کاروباری افراد کو قومی معیشت کا فعال حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو کاروباری مواقع، تربیت، مالیاتی سہولتوں اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنا معاشی ترقی کے عمل کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ سمیڈا فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ آفیسر فاکہہ زبیر نے اپنے خطاب میں عالمی یومِ ایم ایس ایم ای کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاء کو سمیڈا کے مینڈیٹ، کاروباری معاونتی خدمات، کاروباری رہنمائی، استعدادکار میں اضافے کے پروگراموں، برآمدات کے فروغ، مالیاتی سہولتوں تک رسائی اور کاروباری مشاورتی خدمات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت صنعت و پیداوار کے تحت کام کرنے والی سمیڈا ملک بھر میں ایم ایس ایم ای شعبے کی ترقی کے لیے پالیسی معاونت، کاروباری ترقی کی خدمات، کلسٹر ڈویلپمنٹ، کاروباری تربیت، جدید مہارتوں کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع اور برآمدی استعداد میں اضافے کے لیے مختلف منصوبوں پر مسلسل کام کر رہی ہے۔انہوں نے خواتین انٹر پرینوئرز پرخاص کر زور دیا کہ وہ نئی مراعات سے فائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ سمیڈا کا وژن صرف نئے کاروباروں کے قیام تک محدود نہیں بلکہ موجودہ کاروباری اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، انہیں عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانا، ڈیجیٹل معیشت سے جوڑنا اور پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق ان کی استعداد بڑھانا بھی ادارے کی ترجیحات میں شامل ہے۔ سمیڈا ہیڈ آفس کی نمائندگی کرتے ہوئے جنرل منیجر سسٹین ایبلٹی اینڈ جینڈر انکلوژن شہریار طاہر نے پائیدار کاروباری ترقی، ماحول دوست صنعتی طریقوں، جامع کاروباری ماحول اور خواتین کاروباری افراد کے فروغ کے لیے سمیڈا کے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ جدید کاروباری نظام میں خواتین، نوجوانوں اور نئے کاروباری افراد کی مؤثر شمولیت پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے اور اسی مقصد کے لیے سمیڈا مختلف قومی پروگراموں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ تقریب میں آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، فیصل آباد ڈائیز اینڈ کیمیکلز مرچنٹس ایسوسی ایشن، فیصل آباد ڈرائی پورٹ ٹرسٹ، پاور لومز ایسوسی ایشنز،سٹیٹ بینک آف پاکستان، پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل، فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی اور مختلف قائمہ کمیٹیوں کے عہدیداران کے علاوہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے بزنس انکیوبیشن سینٹرز کے ڈائریکٹرز سمیت مختلف اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔

پروگرام کے انعقاد میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے فوکل پرسن رانا سکندر اعظم نے نمایاں کردار ادا کیا۔ انٹرایکٹو سیشن کے دوران شرکاء نے ایم ایس ایم ای شعبے کو درپیش چیلنجز اور ان کے عملی حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں مالیاتی سہولتوں تک رسائی، کاروبار کی دستاویز سازی، برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹلائزیشن، پائیدار کاروباری طریقہ کار، افرادی قوت کی پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، کاروباری ضوابط میں بہتری اور ادارہ جاتی تعاون جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔

شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ اگر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بروقت مالی معاونت، جدید تربیت، تکنیکی رہنمائی اور آسان کاروباری ضوابط میسر آ جائیں تو یہی شعبہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔ شرکاء نے کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے، مقامی صنعت کی عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت بڑھانے، نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی، خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دینے اور ایم ایس ایم ای شعبے کی استعداد کار میں اضافے کے لیے متعدد قابل عمل سفارشات بھی پیش کیں۔

انہوں نے کاروباری برادری کی معاونت، مختلف اداروں کے درمیان رابطوں کے فروغ اور نجی شعبے کے ساتھ مسلسل مشاورت کے لیے سمیڈا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے مکالمے مستقبل کی مؤثر معاشی حکمت عملی تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مقررین نے اس موقع پر اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ عالمی یوم ایم ایس ایم ای ہر سال 27 جون کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے پائیدار ترقی، اختراع، روزگار کے مواقع، غربت میں کمی اور معاشی خوشحالی میں کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔

تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومت، نجی شعبہ، مالیاتی ادارے، تعلیمی تنظیمیں، صنعتی و تجارتی انجمنیں اور کاروباری برادری باہمی اشتراک اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے پاکستان میں ایم ایس ایم ای شعبے کو مزید مستحکم، جدید اور عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ صنعتی ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے وسیع مواقع کے ذریعے قومی معیشت کو دیرپا استحکام فراہم کیا جا سکے۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات