قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط کا اجلاس، قواعد میں ترامیم کے لیے سب کمیٹی قائم، پی آئی اے حکام کے خلاف انکوائری کی ہدایت

بدھ 1 جولائی 2026 20:47

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 جولائی2026ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق نے رکن قومی اسمبلی سید رفیع اللہ کی جانب سے پیش کردہ آئینی و قانونی ترامیم کا جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی (سب کمیٹی) تشکیل دے دی ہے جو 30 روز کے اندر اپنی جامع رپورٹ پیش کرے گی۔قائمہ کمیٹی کا 16 واں اجلاس پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں چوہدری محمد افضل (ایم این اے) کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اہم پارلیمانی امور اور ارکان اسمبلی کے استحقاق سے متعلق معاملات زیر غور آئے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی نے سید رفیع اللہ کی جانب سے ’قواعد و ضوابط اور طریق کار برائے ہائوس آف دی نیشنل اسمبلی 2007‘ کے مختلف قواعد میں ترامیم اور نئے قاعدے کے اضافے کی تجویز پر تفصیلی مشاورت کی۔

(جاری ہے)

بعد ازاں ان مجوزہ ترامیم کے باریک بینی سے جائزے کے لیے چوہدری اظہر قیوم نہرا (ایم این اے) کی کنوینرشپ میں سب کمیٹی قائم کر دی گئی جو ایک ماہ میں اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو جمع کرائے گی۔

اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) کے خلاف پیش کی گئی تحریکِ استحقاق پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ شگفتہ جمانی کا موقف تھا کہ جدہ سے کراچی کی کنفرم فلائٹ ہونے کے باوجود ان کے اہلخانہ کو بورڈنگ پاس جاری نہیں کیے گئے۔

کمیٹی نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے موجودہ سی ای او پی آئی اے کو خط لکھنے کی ہدایت کی تاکہ واقعے کی جامع انکوائری کر کے ذمہ دار افسران کا تعین اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔کمیٹی نے ڈاکٹر درشن اور خواجہ اظہار الحسن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات استحقاق سمیت ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی جانب سے پیش کردہ ترامیم پر غور اگلی نشست تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

اجلاس میں چوہدری ناصر اقبال بوسل، وسیم قادر، سردار محمد یعقوب خان ناصر، پیر سید فضل علی شاہ جیلانی، ذوالفقار بچانی، میر غلام علی ٹالپر اور نعیمہ کشور خان نے شرکت کی جبکہ چوہدری نصیر احمد عباس اور ڈاکٹر نفیسہ شاہ ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزارت پارلیمانی امور، وزارت قانون و انصاف، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سی ڈی اے اور پی آئی اے کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔