سندھ ہائیکورٹ میں مقامی تاجر کی پولیس کے اعلی حکام پر بلیک میلنگ سے متعلق درخواست پر سماعت

جمعرات 2 جولائی 2026 16:59

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جولائی2026ء) سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کے اعلی افسران کے نام پر مبینہ بلیک میلنگ، بھتہ طلبی اور جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیوں سے متعلق ایک مقامی تاجر کی آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے تین ڈی آئی جیز سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور 22 جولائی تک تفصیلی جواب طلب کر لیا۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ واجد (عبدالواحد)شیخ نامی شخص پولیس کے اعلی افسران سے قریبی تعلقات کا دعویٰ کرتے ہوئے انہیں مسلسل بلیک میل کر رہا ہے اور مختلف مواقع پر بھاری رقم کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزم دھمکیاں دینے کے لیے ڈی آئی جی سائوتھ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سمیت دیگر اعلی پولیس افسران کے نام استعمال کرتا ہے تاکہ دبا ئوڈال کر رقم وصول کی جا سکے۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کے وکیل احمد علی گبول ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے اس معاملے پر پولیس کے اعلی حکام کو متعدد تحریری شکایات بھی ارسال کیں، تاہم کوئی موثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس کے باعث ملزم کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔

سماعت کے دوران وکیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملزم مبینہ طور پر پولیس کی سرکاری گاڑی استعمال کر رہا ہے، جس سے پولیس کی سرپرستی کا تاثر پیدا ہوتا ہے اور درخواست گزار و اس کے اہل خانہ شدید خوف و ہراس اور ذہنی دبائو کا شکار ہیں۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ درخواست گزار اور اس کے خاندان کو فوری سیکیورٹی اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے، جبکہ پولیس افسران کے نام استعمال کرکے مبینہ بلیک میلنگ کرنے والے ملزم اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

سندھ ہائیکورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد معاملے کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 جولائی تک جواب طلب کر لیا اور مزید سماعت ملتوی کر دی۔