شہری کو ہراساں کرنے سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر کو نوٹس جاری

کامران آفتاب نے عباس بٹ کے ذریعے 90 لاکھ روپے کا پے آرڈر دیا، جو بعد ازاں مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوا

جمعرات 2 جولائی 2026 16:59

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جولائی2026ء) سندھ ہائیکورٹ نے جعلسازوں کی مبینہ سرپرستی اور درخواست گزار کو ہراساں کیے جانے کے الزام سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی کرائم انویسٹی گیشن، ایس ایس پی کورنگی قیص خان، انویسٹی گیشن آفیسر عباد حیدر، کامران آفتاب اور عباس بٹ کو نوٹس جاری کر دیے۔

(جاری ہے)

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ساجد معروف نے کامران آفتاب کو دو کروڑ روپے مالیت کا کیمیکل مواد فراہم کیا، جبکہ کامران آفتاب نے عباس بٹ کے ذریعے 90 لاکھ روپے کا پے آرڈر دیا، جو بعد ازاں مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوا۔ اس حوالے سے زمان ٹائون تھانے میں مقدمہ بھی درج ہے۔درخواست گزار نے کہاکہ متعلقہ پولیس افسران ملزمان کا ساتھ دے رہے ہیں اور شواہد مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

درخواست گزار کی وکیل بشری عباس ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش کسی غیر جانبدار افسر کو منتقل کرنے کے بجائے درخواست گزار کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔