اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 جولائی 2026ء) جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ (اے ایف ڈی) کی شریک رہنما ایلس ویڈل نے اپنی جماعت کی ایک علاقائی شاخ کے انتخابی منشور کے اس حصے سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے، جس میں روایتی خاندان کو بچوں کی بہترین پرورش کا مثالی ماڈل قرار دیا گیا ہے۔ آر ٹی ایل/این ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ویڈل نے کہا، ''وہ جو چاہیں لکھیں، میں خود مختلف طرزِ زندگی گزارتی ہوں۔
‘‘اے ایف ڈی کی ریاست سیکسنی۔انہالٹ کی شاخ کے منشور میں کہا گیا ہے، ''ماں، باپ اور بچوں پر مشتمل ایک مضبوط خاندان ہی بچوں کی صحت مند نشوونما کی بہترین بنیاد ثابت ہوا ہے۔‘‘ ایلس ویڈل خود ایک خاتون کے ساتھ رجسٹرڈ سول پارٹنرشپ میں رہتی ہیں اور دونوں مل کر دو بچوں کی پرورش کر رہی ہیں۔
(جاری ہے)
مشرقی جرمن شہر ایرفرٹ میں اے ایف ڈی کے پارٹی اجلاس کے موقع پر وائیڈل نے کہا، ''اگر آپ مجھ سے ذاتی طور پر پوچھیں تو میرے بچوں کی بہترین انداز میں پرورش ہو رہی ہے اور انہیں بہترین مواقع حاصل ہیں۔
‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ''ہم اب ایک مختلف حقیقت میں رہ رہے ہیں، اس لیے ہم جنس تعلقات پسند افراد کے ساتھ بھی مساوی سلوک ہونا چاہیے۔‘‘
تاہم ویڈل نے روایتی خاندان کو معاشرتی آئیڈیل قرار دینے کے جماعتی مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاست دان کے طور پر وہ روایتی خاندان کو معاشرے کے لیے مثالی ماڈل قرار دینے کی حمایت کر سکتی ہیں اور اس میں کوئی تضاد نہیں۔
ادارت عاطف بلوچ