ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کی مبینہ غفلت؛ زندہ نوزائیدہ بچی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا

پولیس کی مداخلت پر بچی زندہ حالت میں والدین کے حوالے، ہسپتال انتظامیہ نے ہم نام ماؤں کے باعث غلط فہمی کا جواز پیش کر دیا، بچی کے اہل خانہ کا وزیراعلیٰ پنجاب سے کارروائی کا مطالبہ

Sajid Ali ساجد علی اتوار 5 جولائی 2026 20:52

ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کی مبینہ غفلت؛ زندہ نوزائیدہ بچی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ ..
ساہیوال (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جولائی 2026ء) ساہیوال کے ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ایک زندہ نوزائیدہ بچی کو مردہ قرار دے کر اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا، ہسپتال انتظامیہ نے بچی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اس کے ماموں سے لاش وصول کرنے کے کاغذات پر دستخط بھی کروا لیے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق متاثرہ خاندان نے ہسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پہلے بچی کی موت کی اطلاع دی گئی، لیکن جب ہم نے لاش کا مطالبہ کیا تو انہیں لاش فراہم نہیں کی گئی، ہسپتال حکام نے ہماری نوزائیدہ بچی کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا، اس سنگین صورت حال پر ہم نے ہسپتال میں شدید احتجاج کیا، جس کے بعد پولیس اور میڈیا کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی، پولیس کی فوری مداخلت اور دباؤ کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے بالآخر زندہ بچی والدین کے حوالے کی۔

(جاری ہے)

سنگین الزامات پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ یہ سارا معاملہ دو نوزائیدہ بچیوں کی ماؤں کے نام یکساں ہونے کی وجہ سے پیش آیا، ناموں کی اسی مماثلت کی وجہ سے غلطی سے زندہ بچی کے خاندان کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو گیا تھا، احتجاج اور پولیس کی آمد کے بعد جب ہسپتال کے آفیشل ریکارڈ کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور تحقیقات کی گئیں تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ شکایت کنندہ خاندان کی بچی بالکل زندہ اور محفوظ تھی جبکہ فوت ہو جانے والی نوزائیدہ بچی کسی دوسرے خاندان کی تھی جس کی ماں کا نام بھی وہی تھا۔

ہسپتال انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ’دوبارہ معائنے اور ریکارڈ کی تصدیق کے بعد دونوں بچیوں کی شناخت واضح کر دی گئی ہے اور یہ محض ہم نام ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایک غلط فہمی کا کیس تھا‘، تاہم دوسری جانب اس مبینہ غفلت اور زندہ بچی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر متاثرہ خاندان شدید صدمے کا شکار ہے، انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور اس مجرمانہ لاپرواہی کے ذمہ دار ہسپتال عملے کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔