لاہور واقعہ نان ایشو ہے، زبردستی ایشو بنایا جارہا ہے، رانا ثناء اللہ

رضا ڈار نے سوچا ہوگا خواتین کو پاکستان بلا کر ان سے پیسے نکلوائے جائیں، جس سے معاملہ مس ہینڈل ہوا، کیس کو جان بوجھ کر اسحاق ڈار تک لانے کی کوشش ہورہی ہے؛ ن لیگی رہنماء وفاقی مشیر کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی اتوار 5 جولائی 2026 23:34

لاہور واقعہ نان ایشو ہے، زبردستی ایشو بنایا جارہا ہے، رانا ثناء اللہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جولائی 2026ء) وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے لاہور ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء اور زیادتی کے کیس پر کہا ہے کہ اس معاملے کو خواہ مخواہ اچھالا جا رہا ہے اور نان ایشو کو ایشو بنا کر اس کا رخ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی طرف موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرنے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کو جان بوجھ کر اور کھینچ تان کر اسحاق ڈار کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، ہر انسان اپنے قول اور فعل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے، لیکن ایک مخصوص گھٹیا ذہن خاص مقصد اور ایجنڈے کے تحت اس معاملے کو اچھالنے میں مصروف ہے۔

انہوں نے کیس کی قانونی حیثیت پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ خواتین کا دفعہ 164 کا بیان عدالت میں ریکارڈ ہو چکا ہے اور انویسٹی گیشن ایجنسی کے پاس اس کیس کے مکمل اور ٹھوس شواہد میسر ہیں، مقدمہ چلانے کے لیے اب اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے اور دفعہ 164 کا یہ بیان ہی ملزمان کو کڑی سزا دلانے کے لیے کافی ہے، اگر مستقبل میں کیس کے دوران ضرورت پڑی تو غیر ملکی خواتین کو دوبارہ پاکستان بلایا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے اس اسکینڈل پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے استعفیٰ کے مطالبے پر ردِعمل دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے جواب دیا کہ فیصل واوڈا کا نائب وزیراعظم کا استعفیٰ مانگنا انتہائی بے بنیاد اور غیر منطقی ہے۔
اس سے پہلے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ لاہور میں غیر ملکی لڑکیوں کی تلاش کے دوران ملزم کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا، جس کے بعد لڑکیاں گاڑی سے نکل کر جان بچانے کے لیے قریبی اسٹور میں چلی گئیں اور اسی دوران پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی، واقعے کے بعد مرکزی ملزم فرار ہو گیا تھا جبکہ لڑکیوں کو پولیس نے فوری تحویل میں لے لیا، اس ہائی پروفائل کیس میں اب تک 8 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔