پاک فضائیہ کے افسر کی شہادت کا سبب بننے والے واقعے کی تفصیلات سامنے آگئیں

ملزم سعد عباسی اور لڑکی ایک ہی اسٹور میں ساتھ کام کرتے ہیں، لڑکے کے سر پر شیطانیت سوار تھی اور وہ لڑکی کو کہیں اور لے کر جانا چاہتا تھا، جس پر جھگڑا ہوا؛ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی پریس کانفرنس

Sajid Ali ساجد علی اتوار 5 جولائی 2026 22:12

پاک فضائیہ کے افسر کی شہادت کا سبب بننے والے واقعے کی تفصیلات سامنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جولائی 2026ء) اسلام آباد کے شاہین چوک پر پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو فائرنگ کر کے شہید کرنے کے ہائی پروفائل کیس میں پولیس تفتیش کے دوران ملزم لڑکے اور لڑکی کے حوالے سے تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے اس واقعے کی سنگینی پر ایک تفصیلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پسِ منظر کے حقائق عوام کے سامنے رکھ دیئے۔

آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ فائرنگ کرنے والا مرکزی ملزم سعد عباسی وفاقی دارالحکومت کے علاقے کھنہ کا رہائشی ہے جبکہ متاثرہ لڑکی غوری ٹاؤن میں رہائش پذیر ہے، یہ دونوں نوجوان میلوڈی کے علاقے میں واقع ایک ہی کیش اینڈ کیری میں ملازمت کرتے تھے اور ان کے درمیان پہلے سے جان پہچان تھی، یہ دونوں اکثر ایک ساتھ موٹر سائیکل پر کام پر آتے جاتے تھے۔

(جاری ہے)

ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ واقعے کے روز لڑکے پر شیطانیت سوار تھی اس لیے کام پر جانے کے بجائے ملزم سعد عباسی نے لڑکی کو کسی پارک وغیرہ اور وہاں سے کہیں اور لے جانے کی کوشش کی، تاہم لڑکی نے اس کے ساتھ جانے سے صاف منع کر دیا اور کام پر اسٹور جانے کا کہا، جس پر دونوں کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی اور لڑائی جھگڑا شروع ہو گیا، جس کے بعد ملزم لڑکی کو زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ جھگڑا جب ہورہا تھا تو تو وہاں سے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق گزر رہے تھے، انہوں نے روڈ پر ہونے والے اس جھگڑے کو دیکھ کر ایک ذمہ دار شہری اور محافظ کا فرض نبھاتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان آ کر بیچ بچاؤ کرانے اور لڑکی کو بچانے کی کوشش کی، اس مداخلت پر ملزم سعد عباسی نے طیش میں آ کر پستول نکالی اور گروپ کیپٹن عاصم طارق کو گولی مار کر انہیں قتل کر دیا۔

آئی جی اسلام آباد کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے ملزم سعد عباسی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور لڑکی نمرا سے بھی تفتیش کی جارہی ہے، واقعے سے متعلق تمام سائنسی اور دستاویزی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور کیس کی مزید گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ ملزم کو قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دلوائی جائے۔