پیر مظہر الحق دور میں بھرتی ایک اور ملازم انصاف کی آس لئے دنیا سے چل بسا

ملیر کا محمد افسرمحکمہ اسکول ایجوکیشن میں گریڈ 1کا ملازم اور 14سال سے تنخواہ سے محروم تھا،تنخواہ کی آس میں انتقال کرنیوالے اساتذہ و ملازمین کی تعداد15سے بڑھ گئی زاید اساتذہ و ملازمین مئی 2023سے سروس ٹریبونل کے فیصلے کے منتظر ہیں،اسکول ایجوکیشن نے سپریم کورٹ کے اصل متن کو نظر انداز کیا ،ظہیر احمد

اتوار 5 جولائی 2026 22:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 جولائی2026ء) محکمہ اسکول ایجوکیشن کراچی میں سال2012میں بھرتی ایک اور ملازم سروس ٹریبونل سندھ سے انصاف ملنے کی امیدلئے دنیائے فانی سے چل بسا۔ملیر سے تعلق رکھنے والا محمد افسر گریڈ 1کا ملازم تھا اور 14سال سے تنخواہ سے محروم تھا ۔سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں سال2012میں بھرتی ہونیوالے اساتذہ و ملازمین کو قواعد کے مطابق بحال کرنے کے فیصلہ دسمبر2021میں دیا مگر اس کے باوجود محکمہ اسکول ایجوکیشن نے تقریبا300سے زاید اساتذہ و ملازمین کو بحال نہیں کیا اور یہ ملازمین مئی 2023سے تاحال سروس ٹریبونل کے فیصلے کے منتظر ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے ضلع ملیر سے تعلق رکھنے والا گریڈ 1کا نائب قاصدمحمد افسر35سال کی عمر میں برین ہیمرج کا شکار ہو کر چل بسا۔

(جاری ہے)

مرحوم شادی شدہ تھا اورکسمپرسی کی زندگی گذار رہا تھا ۔ملازم محمد افسرسروس ٹریبونل سندھ سے انصاف کے لئے رجوع کرنیوالے ان300 اساتذہ و ملازمین کی فہرست میں شامل تھا جنھیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجودبحال نہیں کیا گیا۔

اساتذہ اور ملازمین نی2023میں سروس ٹریبول سندھ میں اپیل دائر کی مگر 3سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود اب تک اساتذہ اور ملازمین کو انصاف نہ مل سکا ۔مرحوم کے لواحقین کہتے کہ سروس ٹریبونل میں اگر انصاف ہو بھی گیا توانصاف کا منتظر اس دنیا میں نہیں رہا ۔اسکی روح کو سکون کس طرح ملے گا یہ کوئی نہیں جانتا ۔دوسر ی جانب ادر کیڈر ٹیچرز ایسوسی ایشن کراچی کے صدر ظہیر احمد کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن میں سال2012میں بھرتی کے بعد اساتذہ و ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی گئیں جس پر ملازمین نے اپنے حقوق کے لئے کراچی پریس کلب ،سندھ اسمبلی سمیت مختلف مقامات پر سیکٹروں احتجاج کئے مگر کوئی سنوائی نہ ہوئی بعد ازاں متاثرین نے انصاف کے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور16دسمبر2021کو سپریم کورٹ نے نہ صرف بحال کرنے کا حکم دیا بلکہ 2012سے سنیارٹی دینے کا بھی پابند کیا تاہم محکمہ تعلیم سندھ کی اسکروٹنی کمیٹی نے صرف316اساتذہ و ملازمین بحال کئے اور 300کے قریب اساتذہ و ملازمین کو اعتراضات لگا کر بحالی سے روک دیا جس کے خلاف ان ملازمین نے سروس ٹریبونل سے رجوع کیا مگر 3سال بعد بھی انہیں انصاف نہیں مل سکا ۔