مصر کے ساتھ دھاندلی کے بعد ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن کی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سکینڈل سامنے آگیا

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ارجنٹائن کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کی مہم میں مصروف ہے

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب جمعرات 9 جولائی 2026 12:13

مصر کے ساتھ دھاندلی کے بعد ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن کی منی لانڈرنگ ..
نیویارک (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 9 جولائی 2026ء ) امریکہ نے ارجنٹائن کی فٹ بال ٹیم کو چلانے والی ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی تحقیقات کی زد میں اس وقت آئی ہے جب اس پر 7 جولائی کو مصر کے ساتھ 16 کے راؤنڈ کے ناک آؤٹ میچ میں شدید دھاندلیاں کرنے اور ریفری پر ارجنٹینا کو ہارا ہوا میچ جتانے کے لئے مصری ٹیم پر ظلم کرنے کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور ساری دنیا مین ارجنٹینا ٹیم اور اس کی سرپرستی کرنے میں ملوث ریفری کے ساتھ فیفا پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

اب یہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں ارجنٹینا فٹ بال ایسوسی ایشن کے منی لاندرنگ کے معاملات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

7 جولائی کو مصر کے ساتھ میچ میں ارجنتائن کے ناک آؤٹ ہو جانے میں صرف پندرہ منٹ باقی رہ گئے تو ریفری کی طرف سے شدید نوعیت کی دھاندلیاں سامنے آئیں۔ ان دھاندلیوں نے ارجنتائن کا ورلڈ کپ میں سفر ختم ہونے سے بچا دیا اور اسے متنازعہ بن جانے والے فیصلوں کی مدد سے میچ جتوا کر کوارٹر فائنل میں پہنچا دیا۔

اب ارجنٹینا کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے کوارٹر فائن راؤنڈ میں کھیلنے کا انتظار کر رہی ہے جہاں اس کا میچ سویٹزرلینڈ کے ساتھ ہے۔ اب اچانک منی لانڈرنگ کی خبریں سامنے آنے کے باعث پہلے ہی شدید تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ٹیم کے اس تنازعہ نے بھی فوراً عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ارجنٹینا فٹ بال ایسوسی ایشن کی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز کسی جرم کے ثابت ہونے یا کسی فرد کو مجرم قرار دیئے جانے کے مترادف نہیں لیکن بہرحال یہ مجرمانہ سرگرمیوں کی تحقیقات کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔

ارجنٹائن کے صف اول کے اخبار لا ناسیون نے آج رپورٹ کیا ہے کہ ایف بی آئی فلوریڈا میں قائم کمپنی ٹور پروڈ انٹر ایل ایل سی سے متعلق مالی لین دین کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ کمپنی امریکا میں ارجنٹینا کی فٹ بال ایسوسی ایشن اے ایف اے کے تجارتی اور مالی امور کو چلاتی ہے۔ ارجنٹینا کے اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی بینکوں کے ذریعے تقریباً 26 کروڑ ڈالر کی رقوم کی منتقلی کا معاملہ فیڈرل ادارہ کی تحقیقات کا مرکز ہے۔

حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان میں سے کچھ ٹرانزیکشن امریکی مالیاتی قوانین، خصوصاً منی لانڈرنگ سے متعلق ضوابط، کی خلاف ورزی تو نہیں۔ اخبار کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مختلف کمپنیوں اور افراد کو ایسے طریقہ سے منتقل کیے گئے جن کی وئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔ ایف بی آئی بینک ریکارڈز اور مالی دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ خاص لین دین امریکی قوانین کے مطابق ہوئے یا نہیں۔

کن بینکوں سے رقوم ٹرانسفر ہوئیں تحقیقات میں جن بینکوں کے ذریعے رقوم منتقل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سٹی بینک، بینک آف امریکہ، جے پی مورگن چیز، پی این سی بینک اور سائنووس بینک شامل ہیں۔ تاہم، رپورٹس میں ان بینکوں پر کسی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمی کا الزام نہیں لگایا گیا بلکہ ان کا نام صرف اس لیے آیا ہے کہ انہوں نے زیرِ تحقیق مالی لین دین کو پراسیس کیا۔ رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا دائرہ اے ایف اے کے مالی معاملات سے وابستہ بعض شخصیات تک بھی پھیل گیا ہے۔ جن میں ایسوسی ایشن کے صدر کلاڈیو تاپیا کا نام بھی شامل ہے۔ تاہم، اب تک نہ کلاڈیو تاپیا اور نہ ہی کسی دوسرے عہدیدار کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ یا فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔