قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے ہزارہ ،حیم یار خان، ملتان اور بلوچستان میں سپورٹس کمپلیکس کے قیام کی سفارش کردی

جمعرات 9 جولائی 2026 19:33

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 جولائی2026ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے ہزارہ ،حیم یار خان، ملتان اور بلوچستان میں سپورٹس کمپلیکس کے قیام کی سفارش کردی ہے۔ کمیٹی نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن قیادت کی عدم حاضری پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔جمعرات کو قائمہ کمیٹی کا 13واں اجلاس قائم مقام چیئرمین شیخ آفتاب احمد کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں سیکرٹری وزارتِ بین الصوبائی رابطہ نے کمیٹی کو وزارت کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ فیفا کے نائب صدر نے پاکستان میں کم از کم دو جدید ترین اور عالمی معیار کے فٹ بال گرائونڈز قائم کرنے کے لیے مالی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

(جاری ہے)

کمیٹی کو مطلع کیا گیا کہ آئندہ مالیاتی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت وزارت کے لیے 1.94 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

اس کے علاوہ، اگلے سال پاکستان میں سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کے لیے حکومت پاکستان سے مزید 6 ارب روپے کے اضافی فنڈز کی درخواست بھی کی گئی ہے۔سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ نوجوان کوچز کی تربیت اور گراس روٹ لیول پر کھیلوں کی ترقی کے لیے اگلے ماہ ’’نیشنل کوچنگ ٹریننگ پروگرام‘‘ شروع کیا جا رہا ہے۔ سپورٹس فیڈریشنز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے تعاون سے سکول کی سطح پر مقابلے منعقد کرا رہی ہیں، ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیے گئے ہیں اور نوجوان ایتھلیٹس کی حوصلہ افزائی کے لیے سپورٹس کٹس، ہاکی سٹکس، ٹریک سوٹس اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کرنے والے قومی ایتھلیٹس کے روزانہ کے الائونس میں تین گنا اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ بیرون ملک پاکستانی مشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قومی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ ترقی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کھیلوں کے اکثریتی ٹریننگ کیمپس اور سہولیات اب بھی پنجاب اور اسلام آباد تک محدود ہیں۔

کمیٹی نے زور دیا کہ سپورٹس فیڈریشنز کے ہیڈ کوارٹرز اور ٹریننگ سینٹرز تمام صوبوں میں مساوی طور پر تقسیم کیے جائیں تاکہ ملک بھر کے نوجوان ایتھلیٹس کو یکساں مواقع مل سکیں۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جدید ترین سپورٹس کمپلیکس قائم کیے جائیں تاکہ ان صوبوں کے باصلاحیت نوجوان بھی جدید تربیتی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھ سکیں۔

کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ مشترکہ مفادات کونسل عالمی ادارہ صحت کی جانب سے صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈز کا ایک مناسب حصہ کھیلوں کے فروغ اور ترقی کے لیے مختص کرنے پر غور کرے۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے سپورٹس انفراسٹرکچر مضبوط ہوگا، ٹیلنٹ کو نکھارنے میں مدد ملے گی اور ملک کے نوجوانوں کی جسمانی و ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

کمیٹی نے اپنے اگلے اجلاس میں صوبائی سپورٹس سیکرٹریز کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے صوبائی حکومتوں کے اقدامات پر بریفنگ دیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ کھیلوں کے حوالے سے زیادہ تر مالی اور انتظامی ذمہ داریاں صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہیں، اس لیے ملک میں کھیلوں کی ترقی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط روابط اور ایک متحدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔اجلاس میں ایم این ایز محمد ادریس، بابر نواز خان، انجم عقیل خان، وسیم قادر، سردار محمد یعقوب خان ناصر، حاجی رسول بخش چانڈیو، سیدہ شہلا رضا، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، محمد اقبال خان، خوشحال خان کاکڑ، خواجہ اظہار الحسن اور وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔