نیا عدالتی حکم نامہ متاثرین کے نقصانات کے ازالے کیلئے ناکافی ہے، آفاق احمد

غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی سندھ حکومت کا کام تھا، عدلیہ کا نہیں، چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ

اتوار 12 جولائی 2026 21:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جولائی2026ء) مہاجر قومی موومنٹ (پاکستا ن) کے چیئر مین آفاق احمد نے اپنی رہائشگاہ پر ہائی کورٹ سے آئے وکلا کے ایک وفد سے ملاقا ت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے احکامات واپس لینے کا فیصلہ ناکافی ہے، عدالت نے تسلیم کیا کہ اصل فیصلہ آئینی دائرہ اختیار سے باہر تھا اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنا بنیادی طور پر سندھ حکومت کا کام تھا، عدلیہ کا نہیں۔

یہ نیا عدالتی حکم نامہ متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔آفاق احمد نے کہا کہ 44 خاندانوں نے اس عمارت میں اپنے فلیٹس خریدنے کے لیے زندگی بھر کی جمع پونجی لگا دی تھی، پرانے فیصلے کی واپسی ان خاندانوں کو ان کے گھر واپس نہیں لا سکتی،اختیارات کا تجاوز تسلیم کیا گیا: عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ اس وقت کی سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی حدود سے تجاوز تھا۔

(جاری ہے)

اس اعتراف سے متاثرین کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ختم نہیں ہوتی۔ذمہ داری کا تعین عدالت نے واضح کیا ہے کہ عمارت کے قوانین کو نافذ کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی، پرانے غلط فیصلے پر عمل درآمد کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصان کا کوئی واضح معاوضہ طے نہیں کیا گیا اور ناہی جانی ومالی نقصانات کے ذمہ دار افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کے احکامات جاری نہیں کئے،ہم سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ نسلہ ٹاور سمیت دیگر قانونی عمارات جنہیں اختیارات سے تجاوزکی بھینٹ چڑھا دیاگیا ہے انکے نقصانات کے ازالے کیلئے حکومت اور متعلقہ ا داروں پر دبا ڈالا جائے جنکی NOCکی بنیاد پر یہ پروجیکٹ تعمیر ہوئے تاکہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہوسکے۔