پاکستان سے چین کو گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے، رانا تنویرحسین

جمعرات 16 جولائی 2026 21:03

پاکستان سے چین کو گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے چینی سرمایہ کاری کا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 جولائی2026ء) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان سے چین کو گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیے جدید سلاٹر ہاؤسز اور گوشت پروسیسنگ پلانٹس میں چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا جائے گا۔وفاقی وزیر کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں چینی وفد کے ساتھ لائیو اسٹاک کے شعبے میں پاک چین تعاون، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان اپنے وسیع مویشیوں کے ذخیرے، معیاری حلال گوشت کی پیداوار اور موزوں جغرافیائی محل وقوع کی بدولت لائیو اسٹاک کے شعبے میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک زرعی معیشت کا اہم ستون ہے جو ویلیو ایڈیشن، دیہی روزگار اور قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ چین دنیا میں گوشت درآمد کرنے والی بڑی منڈیوں میں شامل ہے، جس کے باعث پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافے کے روشن امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سلاٹر ہاؤسز، گوشت پروسیسنگ پلانٹس، کولڈ چین انفراسٹرکچر اور ٹریس ایبلٹی سسٹم قائم کرنے کی دعوت دی تاکہ عالمی معیار کا حلال گوشت تیار کرکے چین سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں کو برآمد کیا جا سکے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار کاروباری ماحول، مؤثر پالیسی معاونت اور ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری سے برآمدات، روزگار، ویلیو ایڈیشن، خوراک کے معیار اور مویشی پال کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔اجلاس میں شریک چینی وفد نے پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر کی استعداد کو سراہتے ہوئے گوشت پروسیسنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، معیار کی یقین دہانی اور برآمدی انفراسٹرکچر کی ترقی میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین نے گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیے تکنیکی تعاون، کاروباری روابط کے فروغ اور ریگولیٹری و سینیٹری تقاضوں کی تکمیل کے لیے باہمی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان لائیو اسٹاک کے شعبے کو عالمی معیار کی مسابقتی صنعت بنانے کے لیے اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون غذائی تحفظ، پائیدار زرعی ترقی اور دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔