انسان کے اللہ کی نافرمانی سرکشی ،دین سے بے رغبتی کا راستہ ترک نہ کرنے تک بے چینی بدامنی اور اخلاقی زوال کا خاتمہ ممکن نہیں ،مولانا عبدالرحمن رفیق

ہفتہ 18 جولائی 2026 21:41

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جولائی2026ء) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، مولانا حفیظ اللہ، مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مینگل، مولانا عبدالبصیر، حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد فاروقی، حاجی نعمت اللہ خان اچکزئی اور دیگر نے کہا ہے کہ جب معاشرے میں دولت اور منصب کی ہوس انسانی اقدار اور خدا خوفی پر غالب آ جائے تو ظلم ناانصافی اور خونریزی جنم لیتی ہے اور انسان اپنی فطری انسانیت سے دور ہو کر درندگی کی علامت بن جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی امن، سکون اور خوشحالی صرف اسی معاشرے کا مقدر بنتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی اطاعت اور رسول اکرم ? کی تعلیمات کو اپنی اجتماعی و انفرادی زندگی کا محور بنائے۔

(جاری ہے)

جب تک انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سرکشی اور دین سے بے رغبتی کا راستہ ترک نہیں کرے گا اس وقت تک بے چینی بدامنی اور اخلاقی زوال کا خاتمہ ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل مغربی تہذیب و ثقافت سے غیر معمولی طور پر متاثر ہو رہی ہے۔

لباس، رہن سہن، طرزِ فکر اور معاشرتی رویوں میں اسلامی اقدار کے بجائے مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کو ترقی کی علامت سمجھا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ہماری دینی اخلاقی اور خاندانی روایات مسلسل کمزور ہو رہی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی اسلامی شناخت دینی اقدار اور مشرقی روایات پر فخر کریں قرآن و سنت کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں اور ایسے طرزِ عمل سے اجتناب کریں جو انہیں اپنی تہذیبی و دینی شناخت سے دور لے جائے۔