اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 22 جولائی 2026ء) سکم میں ریاستی حکام نے بتایا کہ چین کے ساتھ سرحد کے قریب سماردنگ گاؤں میں واقع جائے حادثہ پر زہریلی گیسوں کی خطرناک مقدار کی موجودگی کے باوجود امدادی ٹیمیں آکسیجن آلات کے ساتھ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف رہیں۔
حکام کے مطابق پیر کے روز 500 میگاواٹ تیستا پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں اس وقت دھماکا ہوا جب اندر 21 مزدور کام کر رہے تھے۔
ان میں سے صرف دو مزدور جان بچا کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔بعد ازاں بجلی کے محکمے کے چھ اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے اس سرنگ میں داخل ہوئے، تاہم وہ بھی اندر ہی پھنس گئے۔
ریاستی وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمنگ، جنہوں نے منگل کو جائے حادثہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا سرنگ میں میتھین گیس جمع ہونے کے باعث ہوا۔
(جاری ہے)
سول اہلکار انوپما تاملنگ کے مطابق بچ جانے والے مزدوروں نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی، جس کے فوراً بعد سرنگ کے اندر ملبہ گرنا شروع ہو گیا۔
کل منگل تک امدادی کارکن 12 لاشیں نکال چکے تھے، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس(این ڈی آر ایف) کی ٹیمیں سرنگ میں پھنسے ہوئے باقی 13 افراد تک پہنچنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھیں۔
این ڈی آر ایف کے اہلکار نِتن کمار نے جائے وقوعہ پر بتایا، ''سرنگ کے اندر میتھین، کاربن مونو آکسائیڈ اور ہائیڈروجن سلفائیڈ جیسی زہریلی گیسیں پائی گئی ہیں۔‘‘
حکام کے مطابق منگل کی شام تک صورتحال اس قدر خطرناک تھی کہ آکسیجن آلات سے لیس امدادی کارکن بھی ایک وقت میں صرف 15 منٹ کے لیے ہی سرنگ کے اندر جا سکتے تھے۔
بھارت میں ایسے حادثات عام ہیں
بھارت
میں تعمیراتی منصوبوں کے دوران حادثات کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ تیزی سے جاری انفراسٹرکچر کی تعمیر اکثر کمزور ارضیاتی ساخت، تعمیراتی خامیوں، شدید موسمی حالات اور ناکافی حفاظتی انتظامات سے متاثر ہوتی ہے۔خصوصاً ہمالیائی خطے میں نازک پہاڑی ساخت، زلزلہ خیز سرگرمیاں اور زیر زمین غیر متوقع حالات سرنگوں کی تعمیر کو انتہائی خطرناک بنا دیتے ہیں۔
فروری میں پڑوسی بھارتی ریاست میگھالیہ میں کوئلے کی ایک کان میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 18 مزدور ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ 2023 میں شمالی بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں ایک سرنگ کا ایک حصہ منہدم ہو جانے سے 41 مزدور 17 روز تک اندر پھنسے رہے تھے، جنہیں بعد ازاں بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق دریائے تیستا کا طاس، جہاں یہ پن بجلی منصوبہ تعمیر کیا جا رہا ہے، زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے۔ یہاں نسبتاً نئی اور کمزور چٹانی ساخت موجود ہے، جس میں دراڑیں اور ایسے زیر زمین قدرتی خانے پائے جاتے ہیں، جہاں کافی پرانی گیسیں جمع ہو سکتی ہیں۔
میگھالیہ کی نارتھ ایسٹرن ہِل یونیورسٹی کے شعبہ ارضیات کے پروفیسر ڈاکٹر دویش والیا نے کہا کہ اس علاقے میں نسبتاً نئی چٹانی ساخت موجود ہے، جن میں بعض کوئلے کی تہوں سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے کہا، ''اس بات کا قوی امکان ہے کہ میتھین اور دیگر گیسیں زیر زمین جمع ہو گئی ہوں اور انہی کے باعث یہ دھماکا ہوا ہو۔‘‘
ریاستی وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمنگ نے گورنر اوم پرکاش ماتھر کے ہمراہ جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ریاستی حکومت ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے گی۔
ادارت: مقبول ملک