آزاد کشمیر کے انتخابات ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں کرائے جائیں، سردار یعقوب خان

انتخابات کے طریقہ کار پر غیر ضروری تنازعات سے گریز کیا جانا چاہیے، سینئر رہنما پیپلز پارٹی

بدھ 22 جولائی 2026 20:25

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جولائی2026ء) آزاد کشمیر کے سابق صدر و وزیر اعظم سردار محمد یعقوب خان نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جے یو آئی کے رہنما مولانا سعید یوسف و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے تمام انتخابات ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں کرائے جائیں تاکہ کسی قسم کے تنازع، غلط فہمی یا سیاسی اثر و رسوخ کا تاثر پیدا نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر پاکستان کا بیس کیمپ ہے اور کشمیری عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے طریقہ کار پر غیر ضروری تنازعات سے گریز کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے ریاست کی حساسیت اور پاکستان کے موقف پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

(جاری ہے)

سردار یعقوب خان نے کہا کہ اگر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نشستوں پر انتخابات پہلے ہوں گے تو اس سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لیں گی، اس لیے بہتر یہی ہے کہ آزاد کشمیر کی تمام نشستوں پر ایک ساتھ پولنگ کرائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں بھی ایسے حالات کے مطابق گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ ریاست کے عوام کو ایک ہی وقت میں اپنی رائے کے اظہار کا حق ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسا ہونے سے انتخابی عمل پر اعتماد بڑھے گا اور کسی کو اعتراض کا موقع نہیں ملے گا۔سابق وزیراعظم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انتخابات کے دوران آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی سہولیات بند نہ کی جائیں تاکہ عوام، میڈیا اور بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے اہل خانہ سے رابطے میں رہ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط اور لازوال ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔سردار یعقوب خان نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ آزاد کشمیر کو کبھی صوبہ بنانے کی کوئی سوچ موجود رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے تناظر میں اٹھاتا رہا ہے اور یہی اس کا مستقل موقف ہے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے زور دیا کہ انتخابات شفاف، منصفانہ اور تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہونے چاہییں تاکہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کو فروغ مل سکے۔