گیس کی جگہ بجلی کے چولہے کو استعمال کرنے سے دمہ کی علامات کی شدت گھٹ جاتی ہے، تحقیق

جمعہ 24 جولائی 2026 17:15

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) نئی تحقیق میں بتایاگیاہے کہ گھر میں گیس کا چولہا آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے دمہ کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔کیس ویسٹرن ریورس یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ گیس کے چولہوں کے استعمال سے دمہ کی علامات کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں 85 بالغ افراد اور بچوں کو شامل کیا گیا جن میں دمہ کی شدت کافی زیادہ تھی۔ان افراد کی صحت کا جائزہ 4 ہفتوں تک لیا گیا اور پھر ان کے گھروں میں گیس کے چولہوں کو بجلی کے چولہوں سے تبدیل کر دیا گیا اور ان سے کوئی پیسے بھی نہیں لیے گئے۔بعد ازاں ان افراد کی صحت کا جائزہ مزید 2 سے 3 مہینے تک لیا گیا۔

(جاری ہے)

گیس کے چولہوں کو تبدیل کرنے سے قبل اور بعد میں گھر کے اندر فضائی معیار کا جائزہ بھی لیا گیا اور دیکھا گیا کہ نائٹروجن ڈی آکسائیڈ کی سطح کیا تھی۔

خیال رہے کہ یہ گیس فضا کو آلودہ کرکے انسانی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے نتیجے میں طویل المعیاد بنیادوں پر دمہ کا خطرہ بڑھتا ہے۔وہ پھل جسے کھانے جوڑوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہیتحقیق میں بتایا گیا کہ یہ چولہے قدرتی گیس سے جلتے ہیں اور اس گیس کو جلانے سے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسیں فضا میں خارج ہوتی ہیں۔

طویل المعیاد بنیادوں پر اس آلودگی سے پھیپھڑوں کے افعال کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور نظام تنفس کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔تحقیق کے مطابق گیس کی جگہ بجلی کے چولہوں کے استعمال سے گھروں کی اندرونی فضا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں 70 فیصد تک کمی آئی جبکہ دمہ سے متاثر مریضوں کی علامات کی شدت بھی کافی حد تک گھٹ گئی۔درحقیقت محققین کے مطابق ان افراد کی صحت میں آنے والی بہتری ادویات کے استعمال سے آنے والی بہتری کے برابر یا اس سے بہتر تھی۔

محققین نے بتایا کہ ان افراد کی جانب سے دفاتر یا تعلیمی اداروں سے بیماری کے باعث غیر حاضری میں 80 فیصد تک کمی آئی جبکہ ڈاکٹروں کے پاس جانے کی ضرورت 70 فیصد تک گھٹ گئی۔محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کافی حد تک محدود ہیں کیونکہ اس میں بہت کم افراد کو شامل کیا گیا جبکہ ان کی صحت کا جائزہ بھی چند ماہ تک ہی لیا گیا اور دیگر گروپس سے موازنہ بھی نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔