ذ*لاہور چیمبر میں پاکستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ سمٹ کے حوالے سے اہم اجلاس

۱صدر لاہور چیمبر کا سرمایہ کاری کے لئے بہتر ماحول، نوجوانوں کے سکلز اور عالمی تجارتی روابط کے فروغ پر زور لله*سرمایہ کاری لانے کیلئے طویل المدتی معاشی پالیسیوں اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہی: فہیم الرحمن سہگل

جمعہ 24 جولائی 2026 19:45

Zلاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 جولائی2026ء) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پاکستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ سمٹ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔اجلاس سے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے خطاب کیا۔

اس موقع پر نائب صدر خرم لودھی، پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (PAFDA) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طلعت پاشا، فارمن کرسچین کالج یونیورسٹی (FCCU) کے ریکٹر اور منگولیا میں سابق امریکی سفیر ڈاکٹر جوناتھن ایڈلٹن، پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PSDA) کی ڈائریکٹر جنرل سارہ رشید، لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عبدالمجید، اسٹینڈنگ کمیٹی برائے گلوبل انویسٹمنٹ اینڈ فیسیلیٹیشن کے کنوینر سمیع اللہ سمی، ڈاکٹر بو عبداللہ، سہیل نور، امیل گلزار، طارق اسمت، عریشہ منصور اور کاروباری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اپنے خطاب میں فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ پاکستان میں پائیدار سرمایہ کاری لانے کے لیے طویل المدتی معاشی پالیسیوں اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کو تقریباً 1.64 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کو 22 ارب ڈالر، ویتنام کو 20 ارب ڈالر اور ملائیشیا کو 16 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بڑی صارف مارکیٹ ہے اور وسطی ایشیا تک رسائی کا اہم دروازہ بھی ہے، جس کی وجہ سے یہاں سرمایہ کاری اور تجارت کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ تاہم سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور کاروبار دوست ماحول ضروری ہے۔فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ پاکستان کی ترسیلات زر کا تقریباً 60 فیصد حصہ خلیجی ممالک (GCC) سے آتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں جاری تنازعات اور غیر یقینی صورتحال ان ترسیلات کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے پاکستان کو برآمدات بڑھانے اور زرمبادلہ کے نئے ذرائع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے نوجوانوں کی فنی اور پیشہ ورانہ تربیت، پیداواری صلاحیت میں اضافے، برآمدات کے فروغ اور درآمدی اخراجات میں کمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے انسانی وسائل کی بہتری اور طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طلعت پاشا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اتھارٹی کا مقصد عوامی صحت کا تحفظ، تجارت کو فروغ دینا اور جدید تحقیق کے ذریعے جدت لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ PAFDA کو ایک جدید ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے جو ریگولیٹری نگرانی، تجارتی سہولت کاری، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں خدمات فراہم کرے گا۔

یہ ادارہ زراعت، خوراک، فیڈ، ادویات اور دیگر شعبوں میں عالمی معیار کے مطابق ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن کی سہولت فراہم کرے گا۔ڈاکٹر طلعت پاشا نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ویکسینز، کاسمیٹکس، بایومیڈیکل ڈیوائسز، سرجیکل امپلانٹس اور ہربل مصنوعات کی جدید ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ زراعت، خوراک اور ادویات کے شعبوں کے لیے جینومکس لیبارٹری بھی قائم کی جا رہی ہے۔

فارمن کرسچین کالج یونیورسٹی کے ریکٹر اور سابق امریکی سفیر ڈاکٹر جوناتھن ایڈلٹن نے تعلیم اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے ہنر مند افرادی قوت، جدت اور قیادت کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطے کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے اور اسے وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی اور معاشی روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔

ڈاکٹر جوناتھن ایڈلٹن نے بتایا کہ FCCU میں اس وقت تقریباً 10 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں اور یونیورسٹی بین الاقوامی معیار کی تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ نیو انگلینڈ کمیشن آن ہائر ایجوکیشن کی منظوری حاصل کرنے کے عمل سے گزر رہا ہے، جو ہارورڈ، ییل اور ایم آئی ٹی جیسے اداروں کو بھی تسلیم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اپنی بین الاقوامی شراکت داریوں اور مختلف عالمی اداروں کے تعاون سے پاکستان میں تعلیمی سرمایہ کاری، اسکالرشپس اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے استحکام، ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اور بین الاقوامی تجارتی روابط کے فروغ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔