قسمت کا کھیل! برطانیہ میں بچپن میں بچھڑے ہوئے سگے بہن بھائی 40 سال بعد مل گئے

دونوں بہن بھائی دو سال تک ایک ہی جگہ کام کرتے رہے، ایک روز دونوں میں گود لینے کے واقعے پر گفتگو ہوئی، تو اینڈریا کو پتا چلا کہ ڈیوگرین میرا بھائی ہے، دونوں بہن بھائیوں نے ملنے کو بڑی خوش نصیبی قرار دیا

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 25 جولائی 2026 20:23

قسمت کا کھیل! برطانیہ میں بچپن میں بچھڑے ہوئے سگے بہن بھائی 40 سال بعد ..
لندن (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 25 جولائی 2026ء ) قسمت کا کھیل دیکھو کہ برطانیہ میں بچپن میں بچھڑے ہوئے سگے بہن بھائی 40 سال بعد مل گئے، دونوں بہن بھائی دو سال تک ایک ہی جگہ کام کرتے رہے، ایک روز دونوں میں گود لینے کے واقعے پر گفتگو ہوئی، تو اینڈریا کو پتا چلا کہ ڈیوگرین میرا بھائی ہے، دونوں بہن بھائیوں نے ملنے کو بڑی خوش نصیبی قرار دیا۔

بی بی سی کے مطابق یہ حیران کن واقعہ تب سامنے آیا جب 60سالہ ڈیوگرین 2005 میں مانچسٹر ایئرپورٹ کے بس اسٹیشن پر سپروائزر جبکہ 53 سالہ اینڈریا اُرمسٹن وہاں وینڈنگ مشینوں میں سامان فراہم کرنے کام کرتی تھیں۔ دو سال تک اکٹھے کام کرنے کے دوران ان معلوم ہوا کہ وہ دراصل آپس میں سگے بہن بھائی ہیں، جو بچپن میں بچھڑ گئے تھے۔

(جاری ہے)

دونوں آفس کولیگز میں موٹرسائیکلوں کے مشترکہ شوق کی وجہ سے دوستی ہوئی اور وقت گزرنے کے ساتھ دوستی مضبوط ہو گئی۔

جب دوسال گزر گئے تو ایک روز دونوں میں گود لینے (ایڈوپشن) سے متعلق گفتگو ہوئی۔ اس دوران ڈیو گرین نے بتایا کہ انہیں بچپن میں گود لیا گیا تھا، اس پر اینڈریا نے بتایا کہ ان کا ایک بھائی تھا ان کو بھی پیدائش کے فوراً بعد کسی کو گود میں دے دیا گیا تھا۔ ڈیو کا پیدائشی نام اسٹیورٹ پراؤڈلو سن کر اینڈریا حیرت میں گم ہوگئی کیونکہ شادی سے پہلے ان کا خاندانی نام بھی پراؤڈلو تھا۔

اینڈریا نے نام سن کر فوری اپنی والدہ سوزن سے رابطہ کیا اور اپنے گود دیے گئے بھائی کی تاریخِ پیدائش معلوم کی۔ جب تاریخ 24 مارچ 1966 نکلی تو انہیں یقین ہوگیا کہ برسوں سے بچھڑا ہوا بھائی انہیں مل چکا ہے۔ سوزن نے صرف 15 سال کی عمر میں ڈیو کو جنم دیا تھا اور بعد میں انہیں ایک ایسے خاندان کے حوالے کر دیا گیا تھا جو اولاد سے محروم تھا، انہوں نے برسوں تک اپنے بیٹے کو تلاش کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔

حقیقت سامنے آنے کے بعد اینڈریا اپنے بھائی کو پہلی بار حقیقی والدہ سے ملانے لے گئیں، یہ ملاقات انتہائی جذباتی تھی جب برسوں کی جدائی کے بعد ملے تو ماں بیٹے کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہوگئی۔ تاہم بعد ازاں ان کی والدہ سوزن کا انتقال ہوگیا، لیکن دونوں بہن بھائی اس بات پر مطمئن ہیں کہ وہ اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں دوبارہ ملنے کی خوشی دے دی ۔ دونوں بہین بھائی اب برطانیہ میں ہنسی خوشی ساتھ رہ رہے ہیں تاکہ برسوں کی جدائی کا خلا پُر کرسکیں۔ ڈیو کا کہنا ہے کہ اپنے خاندان سے دوبارہ ملنا زندگی کی سب سے بڑی خوش نصیبی اور لاٹری جیتنے کے مترادف ہے۔

متعلقہ عنوان :