اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 جولائی 2026ء) ایران کے نطنز جوہری مرکز کے قریب واقع پک ایکس ماؤنٹین میں ایک زیرِ زمین کمپلیکس ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ انتہائی گہرائی میں تعمیر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی گہرائی اور مضبوط حفاظتی ساخت اسے فضائی حملوں سے نشانہ بنانا انتہائی مشکل بنا دیتی ہے۔
امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے۔ ''ہم غالباً بہت جلد اس علاقے کو نشانہ بنائیں گے اور وہ اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکیں گے۔‘‘ایران
نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تو وہ جنگ کا دائرہ مزید وسیع کر دے گا۔تہران نے کوہ کلنگ گزلا یا پک ایکس ماؤنٹین میں بنائے گئے اس زیر زمین کمپلیکس کے بارے میں تقریباً کوئی معلومات جاری نہیں کی ہیں۔
(جاری ہے)
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو آج تک اس تنصیب کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس مقام کے بارے میں دستیاب زیادہ تر معلومات براہ راست معائنے کے بجائے سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلی جنس اداروں کے تجزیوں پر مبنی ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں سے یہ مقام وقتاً فوقتاً خبروں اور رپورٹس کا حصہ بنتا رہا ہے لیکن آج بھی یہ واضح نہیں کہ اس کا اصل مقصد کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پک ایکس ماؤنٹین کا مقام ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سب سے پراسرار قرار دیا جاتا ہے اور اسی لیے یہ عالمی توجہ کا مرکز بھی بن چکا ہے۔پک ایکس ماؤنٹین کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
یہ زیر زمین کمپلیکس ایران کے صوبہ اصفہان میں واقع ہے۔ اسے ایک پہاڑ کے اندر تعمیر کیا گیا ہے اور یہ ایران کی اہم ترین جوہری تنصیبات میں شمار ہونے والے نطنز یورینیم افزودگی مرکز سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
میکسر ٹیکنالوجیز سمیت مختلف کمپنیوں کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام پر سن 2020 سے مسلسل تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان تصاویر میں نئی سرنگوں کے داخلی راستے، رسائی کے راستے، سکیورٹی تنصیبات اور کھدائی سے نکالی گئی بڑی مقدار میں چٹانیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
تعمیراتی کام میں تیزی بظاہر جولائی 2020ء میں اس وقت آئی، جب نطنز میں جدید سینٹری فیوجز کی اسمبلنگ ورکشاپ ایک دھماکے میں متاثر ہوئی۔
ایرانی حکام نے اس دھماکے کو تخریب کاری قرار دیا تھا۔چند ماہ بعد تہران نے زیر زمین ایک نئی تنصیب بنانے کا اعلان کیا، جہاں جدید سینٹری فیوجز کو زیادہ محفوظ ماحول میں تیار اور نصب کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ نئی تنصیب پہلے متاثر ہونے والے مرکز کے مقابلے میں زیادہ بڑی، جدید اور بہتر محفوظ ہو گی۔
واشنگٹن
میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کے اندازے کے مطابق اس تنصیب کے بعض حصے پہاڑ کے اندر 80 سے 100 میٹر گہرائی میں واقع ہو سکتے ہیں۔اگر یہ اندازہ درست ہے تو یہ کمپلیکس ایران کی کئی معروف جوہری تنصیبات کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرائی میں واقع ہو گا، جس کے باعث فضائی حملوں کے ذریعے اسے نقصان پہنچانا بھی زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ادارے کے معائنہ کاروں کو کبھی بھی اس مقام تک رسائی نہیں دی گئی۔
اسی وجہ سے ایجنسی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتی کہ وہاں جوہری مواد، سینٹری فیوجز یا کوئی اور حساس سازوسامان موجود ہے یا نہیں۔پک ایکس ماؤنٹین میں سینٹری فیوجز کی موجودگی کی اطلاعات
جون 2026ء میں وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق ایران نے ممکنہ طور پر جون سن 2025 میں امریکہ اور اسرائیل کی 12 روزہ بمباری مہم کے بعد کے مہینوں میں یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز کے ہزاروں پرزے یا دیگر حساس آلات اس کمپلیکس میں منتقل کیے۔
منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ سے اس رپورٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایران نے ''شاید‘‘ سینٹری فیوجز کو پک ایکس ماؤنٹین منتقل کیا ہو، تاہم اس حوالے سے امریکہ کے پاس کوئی مصدقہ ریکارڈ موجود نہیں۔
بعض ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایران مستقبل میں اپنی جوہری صلاحیتوں کو بحال یا وسعت دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ کمپلیکس جدید سینٹری فیوجز کی تیاری یا اسمبلنگ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
ایران
کا مؤقف ہے کہ زیر زمین تنصیبات اس کی جوہری تنصیبات کو تخریب کاری اور ممکنہ فوجی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ تہران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔بین الاقوامی معائنہ کاروں اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود ہے، جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔
یہ سطح سول یا پرامن استعمال کے لیے درکار مقدار سے کہیں زیادہ ہے اور ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی کی سطح کے نسبتاً قریب سمجھی جاتی ہے۔بم پروف بنکر؟
واشنگٹن
انسٹی ٹیوٹ فار نئیر ایسٹ پالیسی سے وابستہ سینئر فیلو فرزین ندیمی کے مطابق پک ایکس ماؤنٹین کی اسٹریٹیجک اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ بنکر تباہ کرنے والے بموں کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھتا ہے جبکہ یہ نطنز کے جوہری مرکز کے بھی قریب واقع ہے۔ندیمی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جون سن 2025 میں امریکی اور اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں فردو، نطنز اور اصفہان کی بعض جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے بعد اس زیر زمین کمپلیکس کی اہمیت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔
ان کے بقول، ''ایران کی سکیورٹی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں یورینیم افزودگی اور حتیٰ کہ ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیاں بھی کسی ایک ایسی جگہ پر منتقل کر دی جائیں، جو انتہائی محفوظ ہو۔
اس لحاظ سے پک ایکس ماؤنٹین سب سے موزوں قرار دیا جاتا ہے۔امریکی
فوج کے زیر استعمال بنکر شکن بم زمین یا چٹان کے اندر گہرائی تک داخل ہو کر پھٹنے کے لیے بنائے جاتے ہیں لیکن ان کی بھی ایک محدود رسائی ہوتی ہے۔تاہم یہ سوال اب بھی زیر بحث ہے کہ آیا یہ بم اتنی گہرائی میں واقع کسی تنصیب کو مکمل طور پر تباہ کر سکتے ہیں؟ فوجی ماہرین اس بارے میں مختلف آراء رکھتے ہیں۔
مزید یہ کہ اس کمپلیکس کی سرنگوں کا درست نقشہ، ان کی اصل گہرائی اور اہم تنصیبات کی درست جگہ آج تک عوامی طور پر سامنے نہیں لائی گئی۔
پک ایکس ماؤنٹین کی تنصیب کو ناکارہ بنانے کے امکانات کتنے ہیں؟
نطنز یا فردو جیسی تنصیبات کے برعکس پہاڑ کے اندر واقع کسی تنصیب کو پہنچنے والے نقصان کا درست اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کبھی اس مقام کو نشانہ بنایا بھی گیا تو ضروری نہیں کہ مقصد پورے کمپلیکس کو تباہ کرنا ہو۔ اس کے بجائے زیادہ حقیقت پسندانہ فوجی ہدف سرنگوں کے داخلی راستوں کو منہدم کرنا، رسائی کے راستوں کو نقصان پہنچانا یا انفراسٹرکچرز کو ناکارہ بنانا ہو سکتا ہے تاکہ اس تنصیب کو چلانا مشکل یا ناممکن بنا دیا جائے۔یہ اب بھی واضح نہیں کہ پک ایکس ماؤنٹین مستقبل میں سینٹری فیوجز کی تیاری کا مرکز بنے گا، یورینیم افزودگی کی تنصیب کے طور پر استعمال ہو گا یا محض ایک انتہائی محفوظ معاون کمپلیکس رہے گا۔
تاہم اس مقام کی رازداری، اس کا محل وقوع اور اس کا بظاہر وسیع حجم اسے ایران کے جوہری پروگرام کے سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے مقامات میں شامل کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تنصیب آنے والے برسوں تک عالمی نگرانی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی رہ سکتی ہے۔