حوثیوں کا سعودی عرب کیخلاف دو انتہائی اہم اور حساس فوجی کارروائیاں کرنے کا دعویٰ

جدید ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی تیل کمپنی آرامکو کی اہم تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، ناکہ بندی کے بدلے ناکہ بندی کا اصول جاری رہے گا؛ ترجمان یحییٰ سریع کا بیان

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 25 جولائی 2026 17:31

حوثیوں کا سعودی عرب کیخلاف دو انتہائی اہم اور حساس فوجی کارروائیاں ..
صنعاء (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جولائی2026ء) یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف دو انتہائی اہم اور حساس فوجی کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں "بلاک بائی بلاک" یعنی ناکہ بندی کے بدلے ناکہ بندی کا اصول مکمل طور پر جاری رہے گا۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حوثی تحریک کے ملٹری ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی مسلح افواج نے سعودی عرب کی سرحدی اور اقتصادی حدود کے اندر دو انتہائی حساس اور حکمتِ عملی کے حامل اہداف کو نشانہ بنایا ہے، یہ کارروائیاں سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر کی جانے والی حالیہ بمباری اور کارروائیوں کے جواب میں کی گئی ہیں، جب تک یمن پر حملے اور ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، جوابی کارروائیوں کا یہ سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا ہے کہ یمن کی مسلح افواج نے جدید اور درست نشانہ باندھنے والے ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے جیزان اور ینبوع میں واقع سعودی عرب کی قومی تیل کمپنی آرامکو کی اہم تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، یہ حملے دراصل سعودی اتحاد کی جانب سے یمن کی شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے پر کیے جانے والے حملوں کے جواب میں ادلے کا بدلہ کے تحت کیے گئے۔

ادھر یمن میں قائم حوثی حکومت کے وزیراعظم نے بھی سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کی جانب سے دارالحکومت صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، طریقہ کار کے حامل الساحل خطے یعنی حدیدہ کے صوبے اور تاریخی کامران جزیرے پر کی جانے والی شدید فضائی بمباری کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ حوثی نواز میڈیا نیٹ ورک 'المسیرہ ٹی وی' نے رپورٹ کیا کہ وزیراعظم کے دفتر سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سعودی اتحاد کے ان تازہ ترین حملوں میں براہِ راست عام شہریوں، ہوائی اڈوں اور پبلک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین ورزی ہے، ان حملوں کا جواب یمنی عوام اور ان کی مسلح افواج کی جانب سے مزید شدید اور تباہ کن عسکری پیش رفت کی صورت میں دیا جائے گا، دشمن طاقتوں کو ان تمام جارحانہ اقدامات کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

اس کے برعکس، سعودی قیادت میں قائم عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے خطے میں کشیدگی اور موجودہ صورتحال کی تمام تر ذمہ داری حوثیوں پر عائد کی ہے، انہوں نے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی اور بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں پر کیے جانے والے مسلسل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں"بزدلانہ و غیر ذمہ دارانہ اقدامات قرار دیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے کی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری عسکری اقدامات اٹھائے جاتے رہیں گے۔