کیا واقعی آٹوانڈسٹری ’میڈ اِن پاکستان‘ کی طرف بڑھ رہی ہے یا صرف امپورٹس بڑھ رہی ہیں؟

ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ حکومتی پالیسی کے برعکس پرزے، تیارگاڑیاں امپورٹ کی جارہی ہیں، گزشتہ سال گاڑیوں کی کٹس کی درآمد پر 2 ارب 12 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے۔ صحافی کامران خان

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 25 جولائی 2026 19:21

کیا واقعی آٹوانڈسٹری ’میڈ اِن پاکستان‘ کی طرف بڑھ رہی ہے یا صرف امپورٹس ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 25 جولائی 2026ء ) سینئر صحافی کامران خان کے مطابق کیا پاکستان ’میڈ اِن پاکستان‘ آٹوانڈسٹری کی طرف بڑھ رہا ہے یا صرف امپورٹس بڑھا رہا ہے؟ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ اربوں ڈالر خرچ کرکے پرزے، تیارگاڑیاں امپورٹ کی جارہی ہیں۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے بتایا کہ صرف کہنے کی بات ہے کہ پاکستان میں واقعی گاڑیاں بن رہی ہیں ایسا بالکل نہیں دراصل  ہم مجموعی طور پر صرف اربوں ڈالر خرچ کرکے بیرونِ ملک سے پرزے اور تیار گاڑیاں منگوا رہے ہیں اور یہاں ہم صرف پرزے جوڑنے کا کام کررہے ہیں، تازہ اعداد و شمار نے آٹو انڈسٹری کے بارے میں برسوں سے قائم تصور پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے صرف CKD اور SKD کٹس کی درآمد پر ریکارڈ 2 ارب 12 کروڑ ڈالر خرچ کیے، جبکہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب گاڑیوں کی فروخت ریکارڈ سطح پر پہنچی، مگر اس کامیابی کی اصل قیمت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور مقامی آٹو پارٹس انڈسٹری ادا کر رہی ہے۔

مقامی صنعت کا مئوقف ہے کہ کم لوکلائزیشن کے باعث ہزاروں ملازمتیں اور چھوٹے کاروبار خطرے میں ہیں۔ کیا پاکستان واقعی ’’ میڈ اِن پاکستان‘‘ آٹو انڈسٹری کی طرف بڑھ رہا ہے یا صرف امپورٹس پر انحصار بڑھا رہا ہے؟