Live Updates

ایرانی پراکسیز کے حملے کا خطرہ، صدرٹرمپ کو نیٹوسربراہ اجلاس کے بعد روانگی کیلئے اپنا طیارہ تبدیل کرنا پڑگیا

خفیہ سروس اہلکاروں نے مشورہ دیا کہ ترکیہ سے روانگی کیلئے قطری ائیرفورس ون کی بجائے پرانا ائیرفورس ون استعمال کریں، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 25 جولائی 2026 18:48

ایرانی پراکسیز کے حملے کا خطرہ، صدرٹرمپ کو نیٹوسربراہ اجلاس کے بعد ..
نیویارک (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 25 جولائی 2026ء ) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پراکسیز کے ممکنہ حملے کے خطرے کے باعث نیٹوسربراہ اجلاس کے دوران امریکی صدرٹرمپ کو طیارہ بدلنا پڑگیا، بتایا گیا ہے کہ خفیہ سروس کے اہلکاروں نے صدرٹرمپ کو مشورہ دیا کہ ترکیہ سے روانگی کیلئے قطر کے نئےائیرفورس ون کی بجائے پرانا ائیرفورس ون استعمال کریں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 جولائی کو ترکیے میں منعقد نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔ صدر ٹرمپ ترکیہ کیلئے نئے ائیرفورس ون میں گئے تھے جبکہ صدر ٹرمپ نے ترکیے سے انگلینڈ سفر کیلئے پرانے ائیرفورس ون طیارےکا استعمال کیا تھا۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو ایک ایسے ممکنہ منصوبے کی اطلاع ملی تھی جس کے تحت صدر ٹرمپ کے زیرِ استعمال طیارے کو میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی تھی۔

(جاری ہے)

نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچے تھے تو انہوں نے قطر کی جانب سے دیے کیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے میں سفر کیا، تاہم واپسی پر انہیں پرانے ایئر فورس ون میں برطانیہ روانہ کیا گیا۔ایران کی جانب سے لاحق خطرے کے سبب خفیہ سروس کے اہلکاروں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ترکیہ سے روانگی کے موقع پر قطر کا دیا ہوا نیا ایئر فورس ون استعمال کرنے کی بجائے پرانا ایئر فورس ون استعمال کریں۔

نیوزایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے اس مشورے پر عمل نے قطر کی جانب سے تحفہ میں دیے گئے طیارے کے سیکیورٹی فیچرز پر سوال کھڑے کر دیے تھے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدرٹرمپ اور ایئر فورس ون دونوں ہی کو خطرات لاحق تھے۔ نیو یارک ٹائمز نے یہ دعویٰ ایسے وقت کیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں اور کابینہ اراکین سے ملاقات کی ہے جس میں اس بات پر غور کیا گیا ہے کہ آیا ایران پر حملوں میں شدت لائی جائے یا نہیں۔

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس نے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک اعلی امریکی عہدیدار نے صدر ٹرمپ کے ان بیانات کی جانب اشارہ کیا ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران مجھے قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ صدر اور ان کے وفد کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق ترکی میں پیش آنے والا یہ سیکیورٹی کا خطرہ ان اطلاعات سے الگ تھا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے ممکنہ منصوبے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کی تھیں۔

واضح رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی 2020 میں امریکی کارروائی میں ہلاکت کے بعد سے مختلف مواقع پر ایران سے منسلک گروہوں کی جانب سے صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر شان کرن نے حالیہ بریفنگ میں کہا کہ صدر اور دیگر زیرِ حفاظت شخصیات کو درپیش خطرات کی موجودہ سطح 24 سالہ کیریئر میں سب سے زیادہ ہے جبکہ مجموعی سیکیورٹی کی صورتِ حال کو انہوں نے غیر معمولی حد تک سنگین قرار دیا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر 7 جولائی کو ترکیہ میں منعقدہ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے نئے ایئر فورس ون میں گئے تھے جبکہ صدر ٹرمپ نے ترکیہ سے انگلینڈ سفر کے لیے پرانے ایئر فورس ون طیارے کا استعمال کیا تھا۔امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے آخری لمحات میں طیارہ خفیہ سروس کی سفارش پر بدلا تھا، نئے طیارے میں مخصوص سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات