Live Updates

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مفادات کی جنگ میں3لاکھ77ہزار یمنی شہریوں کی قربانی

الریاض کا بنیادی ہدف اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا اور یمن میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا جبکہ یو اے ای کا مقصد یمن کی تقسیم اور جنوب میں ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جسے ابوظہبی سے کنٹرول کیا جائے. مشرق وسطی امورکے ادارے کی رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ 25 جولائی 2026 18:17

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مفادات کی جنگ میں3لاکھ77ہزار یمنی ..
واشنگٹن/پیرس(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔25 جولائی ۔2026 ) یمن اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی عرب دنیا کی دوطاقتوں کی اپنے مفادات کے لیے جاری رسہ کشی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے یمن تقریبا ایک دہائی سے خانہ جنگی کا شکار ہے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے مطابق اب تک3لاکھ 77ہزار یمنی مارے جاچکے ہیں مشرق وسطی امورپر نظررکھنے والے ادارے مڈل ایسٹ آئی اور مڈل ایسٹ اسٹڈی سینٹر کے مطابق2015میں خانہ جنگی کے آغاز سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا خفیہ اور اسٹریٹجک کردار بنیادی طور پر اپنے اپنے جغرافیائی اور اقتصادی مفادات کے گرد گھومتا ہے، جس نے حالیہ برسوں میں ان دونوں خلیجی اتحادیوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے.

(جاری ہے)

دونوں ممالک نے سال 2015 ”عرب اسپرنگ“کے خطرے کے پیش نظر دارالحکومت صنعاءپر قبضہ کرنے والے حوثیوں کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی لیکن پس پردہ دونوں عرب طاقتوں کی ترجیحات اور خفیہ سرگرمیاں ایک دوسرے سے بالکل مختلف رہیں. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے یمن میں براہِ راست حوثیوں سے لڑنے کے بجائے جنوبی یمن اور ساحلی پٹی پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے پر توجہ مرکوز کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق یو اے ای نے جنوبی یمن خصوصاً المکلا ایئربیس کے قریب خفیہ حراستی مراکز اور جیلیں قائم کیں ان جیلوں میں مقامی مخالفین اور مشتبہ افراد کو رکھا گیا اور ان پر تشدد کے الزامات بھی سامنے آئے.

یواے ای پر یہ الزام بھی آتا ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں (ایس ٹی سی) کی خفیہ سرپرستی کرتا ہے جبکہ ا علانیہ طور پر سعودی عرب میں پناہ گزین جلاوطن یمنی حکومت کی حمایت کا بھی دعویدار ہے لیکن پس پردہ اس نے جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) نامی علیحدگی پسند گروپ کی مالی اور عسکری معاونت کی. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای کا مقصد یمن کی تقسیم اور جنوب میں ایک ایسی حکومت کا قیام تھا جو اس کے اشاروں پر چلے اس کے علاوہ ابوظہی یمن کے اسٹریٹجک جزائر پر قبضہ چاہتا ہے جن میں سقطریٰ اور پیرم شامل ہیں جس کا مقصد ان جزائزپر خفیہ طور پر فوجی اڈے اور نگرانی کے نظام قائم کرکے باب المندب اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں کو کنٹرول کرنا ہے اس منصوبے میں اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعاون کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں.

ادارے نے اپنی رپورٹ میں سعودی عرب کے خفیہ کردار اور حکمت عملی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب کا بنیادی ہدف اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا اور یمن میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ (حوثیوں) کو روکنا رہا ہے اس کے لیے سعودی عرب کی انٹیلی جنس نے یمن کے شمالی اور وسطی علاقوں میں رسوخ حاصل کرنے کے لیے مقامی قبائلی راہنماﺅں کو خفیہ طور پر بھاری رقوم اور ہتھیار فراہم کیے تاکہ وہ حوثیوں کے خلاف برسرپیکار رہیں.

رپورٹ میں جلاوطن صدارتی کونسل کو سیاسی کٹھ پتلیاں قراردیتے ہوئے کہا گیا ہے ریاض نے اپنا اثررسوخ استعمال کرکے جلاوطن حکومت کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کروا کر اپنے زیراثر رکھا جب صدر ہادی غیر موثر ہوئے تو سعودی عرب نے ریاض میں بیٹھ کر 2022 میں ایک 8 رکنی صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) تشکیل دی تاکہ یمن کے سیاسی فیصلے اپنی مرضی کے مطابق کرائے جا سکیں.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں سے تنگ سعودی حکومت نے کئی مرتبہ عمان کی ثالثی میں حوثیوں کے ساتھ خفیہ بیک چینل سفارت کاری اور امن مذاکرات کیے تاکہ وہ یمن کی دلدل سے نکل سکے‘رپورٹ کے ایک حصے میں سعودی اور امارات کی ”کولڈ وار“ پر تفصیلی بحث کی ہے اور کہا ہے کہ پس پردہ جاری یہ رقابت حالیہ عرصے میں اس وقت کھل کر سامنے آئی جب دونوں ممالک کے مفادات آپس میں ٹکرا گئے دسمبر 2025 اور 2026 میں امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندتنظیم (ایس ٹی سی) نے جب سعودی سرحد کے قریبی اور تیل سے مالامال صوبوں حضرموت اور المہرہ کی طرف پیش قدمی کی تو سعودی عرب نے اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے ”سرخ لکیر“قرار دیا.

سعودی جنگی طیاروں نے المکلا بندرگاہ پر امارات سے آنے والے مبینہ ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کی کھیپ پر براہِ راست فضائی حملہ کر کے انہیں تباہ کر دیا اس فوجی کشیدگی کے بعد سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا اور اسے 24 گھنٹے میں فوج نکالنے کا حکم دیا، جس کے بعد یو اے ای نے یمن سے اپنے بقیہ فوجی دستے واپس بلانے کا اعلان کیا.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا منفی کردار صرف یمن میں ہی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث نہیں بن رہا بلکہ ایران جنگ‘لیبیا ‘سوڈان‘صومالیہ اورکینیا سمیت کئی افریقی ممالک میں خانہ جنگی ‘مصرمیں اخوان المسلمین کے منتخب صدرمحمد المرسی اور لیبیا میں کرنل معمرقذافی کی حکومتوں کے خاتمے اوران کے قتل کے الزامات پر امارات پر لگتے رہے ہیں. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات