سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس، یومیہ پٹرولیم پرائسنگ میکنزم پر تفصیلی غور

جمعرات 30 جولائی 2026 19:46

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جولائی2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں یومیہ بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار، سرکاری پٹرولیم کمپنیوں کے چیئرپرسنزاور منیجنگ ڈائریکٹرز کی تقرری کے معیار، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل اور کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کمیٹی نے حال ہی میں متعارف کرائے گئے یومیہ پٹرولیم پرائسنگ میکنزم پر تفصیلی غور کیا اور پندرہ روزہ قیمتوں کے تعین کے سابقہ نظام کی جگہ نئے طریقہ کار کو اختیار کرنے کی وجوہات پر سوالات اٹھائے۔ وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے قیمتوں کے تعین کے عمل کو غیر سیاسی بناتے ہوئے آزاد ریگولیٹر اوگرا کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار دیا ہے۔

(جاری ہے)

چیئرمین اوگرا نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین پلیٹس کے بین الاقوامی بینچ مارکس کی سات روزہ رولنگ اوسط کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یومیہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے اثرات کو سات روز میں تقسیم کرکے صارفین کو اچانک قیمتوں میں اضافے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے طریقہ کار کا مقصد غیر قانونی منافع کے حصول کے لیے کی جانے والی قیاس آرائیوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے پٹرولیم سپلائی چین میں ایندھن میں ملاوٹ، سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے مزید ڈیجیٹلائزیشن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے ڈیلرز کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے اوگرا کو ہدایت کی کہ ڈیلرز ایسوسی ایشن سمیت تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کرکے ان مسائل کے حل کے لیے قابل عمل تجاویز کمیٹی کو پیش کرے۔ کمیٹی نے سرکاری ملکیتی ادارہ ہونے کے باوجود پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹر کی عدم شرکت اور مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کمیٹی نے پی آر ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر کے خلاف استحقاق کی تحریک لانے پر غور کیا۔

پٹرولیم ڈویژن کو تمام سرکاری ملکیتی پٹرولیم کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اعلیٰ انتظامیہ کی مکمل تفصیلات بھی جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ کمیٹی نے اپنی سابقہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی جانب سے کمیٹی کی ہدایات پر عمل نہ کرنے، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تفصیلات فراہم نہ کرنے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بعض معاملات پر بحث سے روکنے سے متعلق ریمارکس پر باضابطہ معذرت نہ کرنے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے ایس ایس جی سی کے خلاف بھی استحقاق کی تحریک لانے پر غور کیا۔ پٹرولیم ڈویژن کو مقررہ مدت سے زائد عرصے سے خدمات انجام دینے والے بورڈ ممبران کی مدت کا جائزہ لے کر جامع رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ کمیٹی نے آئل رگز (Oil Rigs) کی کارکردگی کا آڈٹ نہ ہونے کا بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو سات روز کے اندر آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں ایل پی جی کوٹہ اور لائسنسنگ سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور اوگرا کو ہدایت کی گئی کہ تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کا اجلاس طلب کرکے تفصیلی رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔اجلاس میں سینیٹر قرۃ العین مری، سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سینیٹر عبد الواسع، سینیٹر رانا محمود الحسن، سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر ہدایت اللہ خان اور سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے شرکت کی جبکہ سینیٹر جان محمد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔