سرینگر ،جنوبی کشمیر میں سخت پابندیاں عائد ، محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں

سرینگر کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر اضافی چوکیاں قائم، بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسز گاڑیوں اورمسافروں کی تلاشی لے رہی ہیں

اتوار 2 اگست 2026 14:20

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اگست2026ء) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے سرینگر اورجنوبی کشمیرکے مختلف علاقوں میں سخت پابندیاں عائدکر دی ہیں اوربھارتی فورسز بے گناہ شہریوں کو ہراساں کررہی ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر اضافی چوکیاں قائم کی گئی ہیں جہاں بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسز گاڑیوں اورمسافروں کی تلاشی لے رہی ہیں اورلوگوں کی شناخت کی جانچ کر رہی ہیں۔

(جاری ہے)

بڑی سڑکوں،سرکاری تنصیبات اور اہم چوراہوں پربھی نگرانی کو بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ جگہ جگہ ناکے قائم کئے گئے ہیں جس سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔جنوبی کشمیر میں خاص طور پر ضلع کولگام میں حال ہی میں دوغیرریاستی مزدوروں کے قتل کے بعد بھاریتعداد میںبھارتی فورسز کوتعینات کیاگیا ہے جوبڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کررہی ہیں اورلوگوں سے پوچھ گچھ کررہی ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں بڑے پیمانے پرفوجی کریک ڈاؤن کا سامنا ہے جس میں شہری آبادی کو ہراساں کرنا،محاصرے اورتلاشی کی طویل کارروائیاں اور نقل و حرکت پر پابندیاں شامل ہیں۔