خطرناک سمندری علاقوں کی فہرست سے پاکستان کا نام خارج

پاکستانی بندرگاہوں کا رخ کرنیوالے بین الاقوامی بحری جہازوں کو اضافی وار رسک انشورنس پریمیم ادا نہیں کرنا پڑیگا بین الاقوامی شپنگ لائنز، غیر ملکی تاجروں ، لاجسٹکس کمپنیوں کا پاکستان کے بحری راستوں پر اعتماد بحال ہوگا‘ وزیر بحری امور

اتوار 2 اگست 2026 20:00

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اگست2026ء) پاکستان کے سمندری اور تجارتی شعبے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ لارڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ وار کمیٹی نے پاکستان اور اس کی علاقائی سمندری حدود کو اپنے خطرناک اور اعلی خطرے کے حامل علاقوں کی فہرست سے باضابطہ طور پر خارج کر دیا ہے۔اس فیصلے کے تحت اب پاکستان کی بندرگاہوں کا رخ کرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں کو اضافی وار رسک انشورنس پریمیم ادا نہیں کرنا پڑے گا جس کے نتیجے میں عالمی شپنگ لاگت میں نمایاں کمی اور ملکی تجارت میں بڑی معاشی بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔

(جاری ہے)

لارڈز کی فہرست سے نام نکلنے کے بعد شپنگ لاگت اور انشورنس سرچارجز ختم ہونے سے پاکستانی اشیا ء عالمی منڈیوں میں زیادہ ارزاں اور مقابلے کے قابل ہو جائیں گی۔محمد جنید انور کے مطابق بین الاقوامی شپنگ لائنز، غیر ملکی تاجروں اور لاجسٹکس کمپنیوں کا پاکستان کے بحری راستوں پر اعتماد بحال ہوگا۔

کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور بالخصوص گوادر پورٹ اب عالمی ٹرانزٹ اور خطے کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے زیادہ پرکشش اور فعال بن سکیں گی۔معاشی ماہر منور مرزا کے مطابق پاکستان کی سمندری حدود گزشتہ کئی دہائیوں سے لارڈز کی اعلی خطرے والے علاقوں کی فہرست میں شامل تھیں جس کا خمیازہ ملک کو بھاری تجارتی خسارے اور زیادہ انشورنس اخراجات کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا تھا۔

اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے 13 مارچ 2026 کو باقاعدہ حکمت عملی کا آغاز کیا گیا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی۔اس کمیٹی نے لارڈز کے حکام اور بین الاقوامی بحری اداروں کے سامنے پاکستان کی سمندری حدود کے محفوظ ہونے سے متعلق جامع تکنیکی شواہد، سکیورٹی ڈیٹا اور حقائق پیش کیے۔

مسلسل اور موثر مذاکرات کے نتیجے میں بالآخر جے ڈبلیو سی نے پاکستان کا نام اس فہرست سے حذف کرنے کا اعلان کیا۔بتایا گیا ہے کہ وار رسک پریمیم کے ختم ہونے سے پاکستانی تاجروں کو سالانہ کروڑوں ڈالر کی بچت ہوگی۔اب تک غیر ملکی بحری جہاز پاکستان آنے کے لیے جو اضافی رسک چارجز وصول کرتے تھے، ان کا بوجھ براہِ راست ملکی معیشت اور عام صارف پر پڑتا تھا۔

لاگت میں اس کمی سے درآمدی خام مال بھی سستا ہوگا جس سے مقامی انڈسٹری کو پیداواری اخراجات گھٹانے میں مدد ملے گی۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں خطے کے لیے سب سے کم خرچ اور محفوظ تجارتی راستہ بن سکتی ہیں۔ فہرست سے نام نکلنے کے بعد گوادر پورٹ کو عالمی شپنگ روٹس سے جوڑنے میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔