نظامِ حکمرانی کی ناکامی کی وجہ صرف چار صوبوں کا وجود نہیں، رضا ربانی

نئے صوبوں سے متعلق بیان نے غیر ضروری حساس بحث چھیڑ دی، جمہوری عمل میں مداخلت، اختیارات کا ارتکاز اور آئینی ڈھانچے میں تبدیلیاں مسائل کی بنیادی وجوہات ہیں، سابق چیئرمین سینیٹ

اتوار 2 اگست 2026 21:56

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اگست2026ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹ کے سابق چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام اور نظامِ حکمرانی کی ناکامی سے متعلق حالیہ بیان نے غیر ضروری طور پر ایک حساس بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے مسائل کی اصل وجہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ جمہوری عمل میں بار بار مداخلت اور آئینی اصولوں سے انحراف ہے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں رضا ربانی نے کہا کہ نظامِ حکمرانی کی ناکامی کی وجہ صرف چار صوبوں کا وجود نہیں، بلکہ جمہوری عمل کو بار بار پٹڑی سے اتارنا اور آئینی اداروں کو کمزور کرنا اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی گئی، اس کے منفی اثرات ریاستی نظام اور وفاقی ڈھانچے پر مرتب ہوئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سول اور عسکری بیوروکریسی کو سیاسی کردار اور فیصلہ سازی میں غیر معمولی وسعت دینا بھی نظامِ حکمرانی کی کمزوری کا باعث بنا، جس سے منتخب جمہوری اداروں کا کردار متاثر ہوا۔

رضا ربانی نے مزید کہا کہ اختیارات کو اسلام آباد میں مرتکز رکھنے اور وفاقی اکائیوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم کرنے سے وفاق کمزور ہوا اور حکمرانی کے نظام میں مزید خرابیاں پیدا ہوئیں۔سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ماضی میں آمروں کو آئین میں ترامیم کرنے اور اس کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی اجازت دینا بھی موجودہ مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا حل جمہوریت کے تسلسل، آئین کی بالادستی اور وفاقی اصولوں پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد میں مضمر ہے۔