قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کی توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2024 کے تحت مرتب کردہ قواعد کی منظوری

منگل 4 اگست 2026 22:04

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 04 اگست2026ء) وفاقی حکومت نے تقریباً دو سال بعد توشہ خانہ کے قواعد و ضوابط تیار کر لیے ہیں۔ قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی نے توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2024 کے تحت مرتب کردہ قواعد کی منظوری دے دی ہے، جبکہ ان کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔ منظوری کے بعد قواعد سرکاری گزٹ میں شائع ہوتے ہی نافذ العمل ہو جائیں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق نئے قواعد کا اطلاق تمام عوامی عہدے داروں، سرکاری ملازمین اور سرکاری وفود کے نجی ارکان پر ہوگا۔ سرکاری خزانے سے تنخواہ، مراعات یا دیگر مالی فوائد حاصل کرنے والے تمام عہدے دار بھی اس قانون کے پابند ہوں گے۔قواعد کے تحت کسی بھی عوامی عہدے دار کو موصول ہونے والا ہر تحفہ 30 روز کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔

(جاری ہے)

مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہ کرانے کی صورت میں متعلقہ فرد پر تحفے کی مارکیٹ قیمت کے پانچ گنا تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ سرکاری ملازمین کے خلاف جرمانے کے ساتھ محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔نئے ضوابط کے مطابق توشہ خانہ میں جمع تمام موجودہ اور آئندہ موصول ہونے والے تحائف کھلی اور شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔ قواعد میں تحائف جمع کرانے، ان کی جانچ پڑتال، قیمت کے تعین اور نیلامی کے مکمل طریقہ کار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ایکٹ کے مطابق نیلامی سے حاصل ہونے والی تمام رقم ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں بچیوں کی ابتدائی تعلیم کے فروغ پر خرچ کی جائے گی، جس کا مقصد تعلیم کے شعبے میں سماجی ترقی اور مساوی مواقع کو فروغ دینا ہے۔