”یوم استحصال کشمیر“ : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتظامیہ کی پابندیوں کے باوجود مظاہرے، اسلام آباد و دیگر شہروں میں ریلیاں، کشمیریوں کے ساتھ بھر پور اظہار یکجہتی

بدھ 5 اگست 2026 23:36

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے آج”یوم استحصال کشمیر“ کے موقع پر احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے پورے علاقے میں سخت پابندیاں عائد کر دیں ۔ تاہم بھارتی پابندیوں کے باجود کئی مقامات پر احتجاج کیا گیا اور دھرنے دئیے گئے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر ، بانڈی پورہ ، اسلام آباد ، پلوامہ ، رام بن ، ڈوڈہ اور دیگر علاقوں میں مختلف مقامی سیاسی جماعتوں کے زیر اہتمام مظاہرے کیے گئے۔

بھارتی فورسز کی طرف سے سرینگر میں ایک احتجاجی مارچ کے شرکاءکو آگے بڑھنے سے روک دیا جس پر انہوں نے دھرنا دیا۔ شرکاءنے بھارتی جبر اور استحصال کے خلاف نعرے لگائے اور علاقے کی خصوصی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔

(جاری ہے)

کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز نے 5 اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے اب تک 1ہزار69 کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں 22 خواتین اور 48 کم عمر لڑکے شامل ہیں۔

ان شہادتوں کے نتیجے میں 85 خواتین بیوہ اور 236 بچے یتیم ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران پرامن مظاہرین پر گولیوں، پیلٹ چھروں اور آنسو گیس کے گولوں سمیت وحشیانہ طاقت کے استعمال سے کم از کم 2ہزار 7سو 8کشمیری شدید زخمی ہوئے جبکہ قابض بھارتی فورسز نے37ہزار 7سو 36 افراد کو گرفتار کیا ۔بھارتی انتظامیہ نے گزشتہ سات برس کے دوران کشمیریوں کی1ہزار 2سو 20 سے زائد املاک ضبط اور مسمار کی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبے کو دبانے میں ناکام رہے ہیں اور وہ اپنی جدوجہد آزادی کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں کہا کہ 5 اگست اس دن کی تکلیف دہ یاد دہانی ہے جب بھارت نے علاقے کی خصوصی حیثیت چھیننے کا جبری فیصلہ کشمیریوں پر مسلط کیا اور انہیں بے اختیار کردیا۔

حریت کانفرنس کے رہنماو ¿ں فیاض حسین جعفری اور مولانا سید سبط شبیر قمی نے بھی اپنے بیانات میں کہا کہ بھارت کشمیریوں کے تشخص پر حملہ آور ہے اور استعماری ہتھکنڈوں کے ذریعے انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔دریں اثنا آج ”یوم استحصال کشمیر“ کے موقع پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد اور تمام صوبائی دارلحکومتوں کے علاوہ آزادکشمیراور گلگت بلتستان میں ریلیاں نکالی گئیں اور سیمینار وغیرہ منعقد کیے گئے۔ بیرون ممالک بھی تارکین وطن کشمیریوں اور پاکستانیوںنے جلسے ،جلوسوں کا انعقاد کر کے مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کیا۔