حریت کانفرنس کا مقبوضہ جموں وکشمیرکی سنگین صورتحال پر اظہار تشویش

پیر 10 اگست 2026 18:16

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 اگست2026ء) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے محاصرے اور تلاشی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور کشمیری سیاسی رہنماو ¿ں اور کارکنوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی وجہ سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت نے سرینگر میں ایک بیان افسوس کااظہارکیاکہ کشمیری رہنماﺅں کو ان کے سیاسی نظریے کی وجہ سے نظر بند رکھا گیا ہے جبکہ ان کی نظر بندی کو طول دینے کے لیے ٹرائل میں جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے۔

حریت کانفرنس نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تنازعہ کشمیر کے پائیدارحل کے لیے اقدامات کرے۔

(جاری ہے)

کل جماعتی حریت کانفرنس اور جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے ممتاز کشمیری رہنما شیخ عبدالعزیز کو ان کے 18ویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔بھارتی فوجیوں نے شیخ عبدالعزیز کو 11 اگست 2008 کو اس وقت گولیاں مارکر شہیدکردیاتھا جب وہ جموں کے ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے وادی کشمیرکی اقتصادی ناکہ بندی کے خلاف سرینگر سے کنٹرول کی طرف ایک بڑے پرامن جلوس کی قیادت کررہے تھے۔

حریت قیادت نے کہا کہ کشمیر کازکے لئے شیخ عزیزکی خدمات اور قربانیاں سیاسی حقوق اور حق خود ارادیت کے لئے کشمیریوں کی جدوجہد کا ایک اہم باب ہیں۔قیادت نے کہا کہ جلوس میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی شرکت بھارتی مظالم اور معاشی ناکہ بندی کے خلاف کشمیری عوام کے عزم کی عکاسی کرتی تھی۔ حریت قیادت نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

دریں اثناءبھارتی فورسز اور ایجنسیوں نے بھارت کے یوم آزادی سے قبل مقبوضہ جموں وکشمیر کے متعدد علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں تیزکر دی ہیں۔ جموں، راجوری، پونچھ، کشتواڑ، سانبہ اور کٹھوعہ میں گھرگھرتلاشیاں لی گئیں جبکہ بارہمولہ، کپواڑہ، بانڈی پورہ، بڈگام، اسلام آباد، کولگام اور پلوامہ کے مختلف علاقوں میں چھاپوں اور تلاشیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

بھارتی پولیس نے ضلع بارہمولہ میں محمد پرویزنامی ایک شخص کی 12 کنال سے زائداراضی ضبط کر لی۔ بھارت کے یوم آزادی سے قبل قابض حکام نے سرینگر اور سرکاری تقریبات کے اہم مقامات کے اردگرد اوردیگر علاقوں میں شاہراہوں اور اہم رابطہ سڑکوںپر پابندیاں مزیدسخت کر دی ہیں جبکہ جگہ جگہ گا ©ڑیوںاورمسافروں کی تلاشی لی جارہی ہے اور لوگوں سے شناختی دستاویزات طلب کی جارہی ہیں۔جموں کی پریڈ سبزی منڈی میں دکانوں کو مسمار کرنے کے خلاف تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی سے ان کا روزگار خطرے میں پڑگیا ہے۔