Live Updates

وزیرخزانہ کے مشیر سے پی بی سی قیادت کی ملاقات، سرمایہ کاری، نجکاری اور معاشی اصلاحات پر تبادلہ خیال

منگل 11 اگست 2026 17:35

وزیرخزانہ کے مشیر سے  پی بی سی قیادت کی  ملاقات، سرمایہ کاری، نجکاری ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 اگست2026ء) وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد سے پاکستان بزنس کونسل کی قیادت کی ملاقات میں سرمایہ کاری کے فروغ، نجی شعبے کی شمولیت، سرکاری اداروں کی نجکاری و تنظیمِ نو، ٹیکس اصلاحات اور حکومت کے رائٹ سائزنگ ایجنڈے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ پی بی سی نے معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کے کردار کو مزید بڑھانے کے لیے اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرنے پر اتفاق کیا۔

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد سے منگل کو وزارتِ خزانہ میں پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین زید بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی نے ملاقات کی، جس میں سرمایہ کاری کے فروغ، نجی شعبے کی شمولیت مضبوط بنانے اور حکومت کے وسیع تر ڈھانچہ جاتی اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

(جاری ہے)

ملاقات میں معاشی اصلاحات کے اہم امور پر غور کیا گیا، جن میں حکومت کا جاری نجکاری پروگرام، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو اور تجارتی سرگرمیوں میں حکومت کے کردار کو محدود کرنے کے اقدامات شامل تھے۔

شرکا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، بینکوں اور ہوائی اڈوں کی مجوزہ نجکاری پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس کا مقصد کارکردگی میں بہتری، سرمایہ کاری کا فروغ اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے ذریعے خدمات کی فراہمی کا معیار بہتر بنانا ہے۔اجلاس میں بڑے سرکاری اداروں کو ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ میں لانے کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے، جن میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن بھی شامل ہے۔

اس امر پر زور دیا گیا کہ نجی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت سے کارپوریٹ گورننس، شفافیت اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری کے ساتھ ساتھ سرمائے تک رسائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ مارکیٹ پر مبنی معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے حکومتی مقصد کو بھی تقویت ملے گی۔پاکستان بزنس کونسل کی قیادت نے حکومت کے رائٹ سائزنگ ایجنڈے کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایک مختصر، مؤثر اور زیادہ توجہ مرکوز سرکاری شعبے کی اہمیت پر زور دیا۔

پی بی سی نے نجکاری، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، رائٹ سائزنگ اور دیگر ایسے شعبوں کے حوالے سے اپنی تفصیلی تجاویز اور سفارشات حکومت کے ساتھ شیئر کرنے پر بھی اتفاق کیا، جہاں نجی شعبے کی زیادہ شمولیت معاشی کارکردگی اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ملاقات میں ٹیکس نظام کو معقول بنانے اور درمیانی مدت کے لیے ٹیکس پالیسی فریم ورک کی تشکیل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ ایسا قابلِ پیش گوئی، شفاف اور مسابقتی ٹیکس نظام تشکیل دیا جائے جو سرمایہ کاری، کاروباری توسیع اور طویل المدتی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے۔ کاروباری برادری کی جانب سے تجاویز اور سفارشات حکومت کے ساتھ شیئر کی جائیں گی تاکہ درمیانی مدت کی ٹیکس پالیسی سے متعلق جاری مشاورت میں انہیں شامل کیا جا سکے۔پی بی سی کی قیادت نے وفاقی بجٹ 27 ۔

2026 میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کو بھی سراہا اور ان کی حمایت کی، بالخصوص ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافے پر محدود توجہ کے بجائے ٹیکس بیس اور معاشی سرگرمیوں کو وسیع کرنے کی پالیسی کو خوش آئند قرار دیا۔ پی بی سی قیادت نے نجی شعبے اور کاروباری اداروں کے لیے فراہم کردہ مراعات، بالخصوص برآمد کنندگان کی معاونت، مسابقتی صلاحیت میں اضافے، کاروباری لاگت میں کمی اور سرمایہ کاری و کاروباری توسیع کی حوصلہ افزائی کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

خرم شہزاد نے پی بی سی کی جانب سے تعاون اور مؤثر شمولیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسیوں اور اصلاحات کی تشکیل میں کاروباری برادری سے مسلسل مشاورت انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور کاروباری شعبے کے درمیان تعمیری مکالمہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے، کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور عملی و پائیدار اصلاحاتی اقدامات کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔دونوں جانب سے اس امر کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا کہ اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور ایسی پالیسیاں تشکیل دینے کے لیے حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے جو نجی شعبے کی سرمایہ کاری، مسابقت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دیں۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات