سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا کاروبار دوست ٹیکس اصلاحات اور ٹرانسپورٹ ہڑتال کے فوری حل پر زور

منگل 11 اگست 2026 21:15

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 اگست2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں ملک میں ایف بی آر کی ٹیکس پالیسیوں سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کنوینر سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کی۔اجلاس کے آغاز پر کنوینر سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ اجلاس کا مقصد معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی بلند قیمتوں اور مشکل ٹیکس نظام کے باعث متعدد کمپنیاں اپنی سرگرمیاں محدود کر رہی ہیں یا ملک سے کاروبار منتقل کر رہی ہیں۔وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک کی درآمدی ضروریات اور مالیاتی مشکلات کے باعث ٹیکس اقدامات متاثر ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

حکام نے حکومت کی جانب سے حالیہ ریلیف اقدامات سے بھی آگاہ کیا، جن میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی، سپر ٹیکس میں کمی اور برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس کا خاتمہ شامل ہے۔

حکام کے مطابق حکومت نے کاروباری شعبے کو سہولت دینے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے تقریباً 359 ارب روپے کے ریونیو اثرات برداشت کیے ہیں۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ برآمد کنندگان کے ٹیکس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے کراچی، لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد، اسلام آباد اور ملتان میں سہولت کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔کاروباری برادری کے نمائندوں نے موجودہ ٹیکس نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے نمائندے میاں زاہد حسین نے کہا کہ قومی پالیسی میں معاشی ترقی کے بجائے ریونیو جمع کرنے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایڈوانس اور ودہولڈنگ ٹیکسز میں کمی، کسٹمز ڈیوٹیز کو معقول بنانے، آڈٹ کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور فیکٹریوں کی نگرانی کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پیچیدہ ٹیکس طریقہ کار اور تعمیلی تقاضوں نے صنعتی ترقی کی حوصلہ شکنی کی ہے اور کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ کیا ہے۔چیمبر آف کامرس کے نائب صدر جدون نے بھی کہا کہ پاکستان میں مزدوروں کی لاگت مسابقتی ہونے کے باوجود کاروباری شعبہ بجلی کے بلند نرخوں اور ریگولیٹری مشکلات کے باعث شدید مسائل کا شکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے نئے شعبوں اور کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرکے ٹیکس بیس کو وسیع کیا جائے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے موجودہ اقدامات کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے سرمایہ کاروں کے تحفظ اور حصص کی منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ کنوینر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ذیلی کمیٹی کو موجودہ نظام کے حوالے سے جامع بریفنگ فراہم کی جائے۔کمیٹی نے سیکرٹری خزانہ کی اجلاس میں عدم شرکت پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

سینیٹر طلحہ محمود نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کی شرکت یقینی بنائی جائے، بصورت دیگر معاملہ سینیٹ کی استحقاق کمیٹی کو بھیجا جا سکتا ہے۔کنوینر نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی صرف کاروبار دوست پالیسیوں اور شفاف طرز حکمرانی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے ایسی باصلاحیت اور دیانتدار افسران کی تعیناتی پر زور دیا جو سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے موثر پالیسیاں تشکیل دے سکیں۔

ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اصلاحات جاری ہیں جن میں ٹیکس ری ایمبرسمنٹ کے لیے موبائل ایپلی کیشن کی تیاری اور ملک کے بڑے تجارتی مراکز میں مخصوص سہولت دن مقرر کرنا شامل ہے۔کمیٹی نے جاری گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال اور اس کے تجارت و معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے مسئلے کے حل میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خراب ہونے والی اشیاء کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے جبکہ کنٹینرز کی حراست کے باعث کاروباری اداروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ متاثرہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ فوری مذاکرات کیے جائیں اور مزید معاشی نقصانات سے بچنے اور پاکستان کے بین الاقوامی کاروباری تشخص کو محفوظ رکھنے کے لیے مسئلہ جلد حل کیا جائے۔کنوینر نے مزید سفارش کی کہ اگر ٹیکس دہندگان اپنے ٹیکس گوشواروں میں حقیقی غلطیوں کی درستی کر دیں تو ان کے اکائونٹس 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر بحال کیے جائیں۔

انہوں نے ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے موثر بائیومیٹرک تصدیقی نظام وضع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مارکیٹیں جلد بند کرنے کے اوقات تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ذیلی کمیٹی نے ٹرانسپورٹرز اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ فوری مذاکرات کرنے اور ان کے مسائل حل کرکے معمول کی کاروباری سرگرمیاں جلد از جلد بحال کرنے کی پرزور سفارش کی۔