ایک کروڑ 70 لاکھ کے بائونس چیک کیس میں تفتیشی افسر (کل) ہائیکورٹ طلب

بدھ 12 اگست 2026 14:03

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 اگست2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کے بائونس چیک کے مقدمے میں تفتیشی افسر کو کل ( جمعرات) کے روز ریکارڈ سمیت طلب کرلیا جبکہ عدالت نے ملزم کے طرز عمل پر بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ملزم گزشتہ تین سال سے درخواست ضمانت دائر کررہا ہے اور پھر عدم پیروی پر درخواست خارج کروا رہا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرور نہنگ نے ملزم سکندر حیات کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ملک عمر طاہر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ملزم کی جانب سے وکیل نے ضمانت کے حصول کے لیے دلائل دئیے۔سماعت کے دوران عدالت نے ملزم کے طرزعمل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ کے موکل نے تو سسٹم کو مذاق بنایا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

ملزم گزشتہ تین سال سے ضمانت کی درخواستیں دائر کررہا ہے اور چار مرتبہ درخواست ضمانت عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کروا چکا ہے۔عدالت نے تفتیش کے حوالے سے پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے تفتیشی افسر سے متعلق استفسار کیا کہ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے ابھی تک کیا کیا ۔مقدمے کے مطابق مدعی نے گرین ٹائون میں مکان خریدنے کے عوض ملزم کی جانب سے ایک کروڑ 50 لاکھ روپے کا چیک دیا گیا جو بائونس ہوگیا جس پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

کیس میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کی رقم کا معاملہ عدالت کے سامنے زیر بحث آیا۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی جانب سے ادائیگی کردی گئی ہے، دستاویزات پیش کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔وکیل کے دلائل پر جسٹس غلام سرور نہنگ نے مقدمے کے تفتیشی افسر کو آج جمعرات کے روز مکمل ریکارڈ سمیت طلب کرلیا ۔