لاہور میں نصب کردہ 39واٹر فلٹریشن پلانٹس تین سال میں ہی غیر فعال ہونے کا انکشاف

پیر 17 اگست 2026 17:42

لاہور میں نصب کردہ 39واٹر فلٹریشن پلانٹس تین سال میں ہی غیر فعال ہونے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اگست2026ء) لاہور میں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے نصب کیے گئے بیشتر واٹر فلٹریشن پلانٹس چند ہی سالوں میں غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا،معاملے پر پبلک اکائونٹس کمیٹی نے فلٹریشن پلانٹس کی موجودہ حالت سے متعلق دستاویزات آڈٹ حکام کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی ۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2018ء میں لاہور میں 39واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے تھے تاہم ناقص معیار کے کام اور بروقت مرمت و دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ان میں سے بیشتر پلانٹس تین سال کے اندر ہی غیر فعال ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب پر مجموعی طور پر 24کروڑ 85لاکھ 66ہزار روپے خرچ کیے گئے تھے۔

(جاری ہے)

پلانٹس کے غیر فعال ہونے کے باعث نہ صرف سرکاری فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھ گئے بلکہ شہری بھی صاف پانی کی سہولت سے محروم رہے۔

معاملے پر پبلک اکائونٹس کمیٹی نے فلٹریشن پلانٹس کی موجودہ حالت سے متعلق دستاویزات آڈٹ حکام کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔کمیٹی نے پنجاب پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو فلٹریشن پلانٹس کی ہینڈنگ اوور اور ٹیکنگ اوور سے متعلق دستاویزات بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ آڈٹ کے عمل کو مکمل کیا جاسکے۔آڈٹ حکام نے پلانٹس کی کارکردگی، معیارِ تعمیر اور دیکھ بھال کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ بروقت مرمت اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث سرکاری سرمایہ کاری مثر ثابت نہیں ہوسکی۔حکام سے پلانٹس کی موجودہ صورتحال، غیر فعالیت کی وجوہات اور ان کی حوالگی سے متعلق ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، جس کے بعد ذمہ داری کا تعین کیے جانے کا امکان ہے۔